علاقائی ترقیاتی کونسل کے اراکین کا انتخاب ،نئے انتظامی نظام کے تحت خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں علاقائی ترقیاتی کونسل کے ارکان کے انتخاب اور مقامی نمائندگی کے لیے جرگوں کا سلسلہ جاری
15 اکتوبر کو باجوڑ، کرم، باڑہ، خیبر، اپر دیر اور لوئر دیر میں مقامی عمائدین، علماء کرام اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ جرگے اور مشاورتی اجلاس منعقد کیے گئے، جن میں علاقائی ترقیاتی کونسل کے کردار، مقامی نمائندگی، عوامی مسائل اور ترقیاتی ضروریات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام مقامی عمائدین کے ساتھ مشاورت کے ذریعے علاقائی ترقیاتی کونسل کے قیام اور عوامی مسائل کے حل کے لیے معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
مقامی عمائدین نے نئے انتظامی نظام پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سرکاری اداروں کے ساتھ تعاون، عوامی مسائل کے حل اور علاقے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اس اقدام کے ذریعے مقامی روایات اور اجتماعی مشاورت کو انتظامی و ترقیاتی عمل سے منسلک کرتے ہوئے قبائلی اضلاع کی مقامی آبادی کو مؤثر نمائندگی فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
نئے انتظامی نظام کے تحت خیبر پختونخوا کے بارہ اضلاع ، جن میں باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر، جنوبی وزیرستان لوئر، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت اور بنوں شامل ہیں، میں مقامی افراد کونسل کا انتخاب کریں گے۔
اسی سلسلے میں گزشتہ روز مہمند، بنوں اور وزیرستان میں بھی ملک و مشران، علماء کرام اور مقامی عمائدین کے ساتھ جرگے منعقد کیے گئے، جن میں نئے انتظامی نظام، علاقائی ترقیاتی کونسل میں مقامی نمائندگی، امن و امان کی صورتحال اور ترقیاتی ضروریات پر تبادلۂ خیال کیا گیا ۔
باقی ماندہ اضلاع میں بھی اگلے دو دنوں میں علاقائی ترقیاتی کونسل کے نمائندگان کا انتخاب مکمل ہو جا ئے گا ۔کونسل کے ارکان کا انتخاب مقامی آبادی کی خواہشات، قبائلی روایات اور باہمی مشاورت کو مدنظر رکھتے ہوئے جرگہ نظام کے تحت کیا جا رہا ہے
جرگے کے تحت کونسل ممبران کے انتخاب کا مقصد یہ ہے کہ مقامی عمائدین کو نمائندگی دی جا سکے اور علاقے کے مسائل، ضروریات اور ترقیاتی ترجیحات کو مؤثر انداز میں متعلقہ حکام تک پہنچایا جا سکے۔
علاقائی ترقیاتی کونسل کا مقصد مقامی ضروریات کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی، عوامی مسائل کے حل کے لیے تجاویز اور متعلقہ انتظامی اداروں کے ساتھ رابطہ کاری کو بہتر بنانا ہے ۔