مولانا فضل الرحمان کے خلاف نیب کی تحقیقات کہاں تک پہنچیں؟ 64 کنال اراضی اور سرکاری زمین کی فروخت کے معاملے کا انجام کیا ہوا؟
دسمبر 2020 میں 26 سوالات پر مشتمل سوالنامہ، اثاثوں کے ذرائع آمدن اور سرکاری زمین کی مبینہ کم قیمت فروخت کی شکایت سامنے آئی، عوام جاننا چاہتے ہیں کہ تحقیقات کا نتیجہ کیا نکلا؟
مولانا فضل الرحمان کے اثاثوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں اراضی سے متعلق نیب کی تحقیقات کو کئی سال گزر چکے ہیں، لیکن ان معاملات کے حتمی انجام کے بارے میں ایک اہم سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے: کیا نیب کی تحقیقات کسی نتیجے پر پہنچیں، کوئی ریفرنس دائر ہوا، یا معاملہ کسی مرحلے پر ختم ہوگیا؟
دسمبر 2020 میں اس معاملے نے اس وقت توجہ حاصل کی جب اے آر وائی نیوزاور بعض دیگر میڈیا نے رپورٹ کیا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے مولانا فضل الرحمان کو 26 سوالات پر مشتمل سوالنامہ بھیجا ہے۔ سوالنامے میں ڈیرہ اسماعیل خان میں 64 کنال اراضی، ان کے بیٹے کے نام زرعی زمین، ملتان کینٹ میں جائیداد، خاندانی اثاثوں اور آمدن کے ذرائع سے متعلق تفصیلات طلب کیے جانے کی اطلاع دی گئی تھی۔
نیب کے سوالات صرف زمینوں تک محدود نہیں تھے بلکہ بینک اکاؤنٹس، جائیدادوں کی خریداری کے لیے رقم کے ذرائع اور دیگر مالی معاملات سے متعلق معلومات بھی طلب کی گئی تھیں۔ اس پیش رفت نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ آیا متعلقہ اثاثوں کی خریداری اور ان کے مالی ذرائع کی جانچ سے کوئی اہم انکشاف سامنے آئے گا۔
اسی مہینے میڈیا نے نیب کی تحقیقات سے متعلق رپورٹ میں بتایا کہ ایک شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ جنرل ٹرانسپورٹ سروس (جی ٹی ایس) کی سرکاری زمین مبینہ طور پر اصل مالیت سے کم قیمت پر فروخت کی گئی۔ رپورٹ میں زمین کی مالیت اور فروخت کی قیمت کے درمیان نمایاں فرق کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ جے یو آئی (ف) کے خیبرپختونخوا کے رہنما عطاء الرحمٰن نے اس شکایت کو جھوٹ قرار دیا تھا۔
اس معاملے میں بنیادی سوال یہ تھا کہ سرکاری زمین کی فروخت کس طریقۂ کار کے تحت ہوئی، قیمت کا تعین کیسے کیا گیا اور شکایت کی تحقیقات میں کیا حقائق سامنے آئے۔ اگر سرکاری اثاثہ واقعی کم قیمت پر فروخت ہوا تھا تو یہ قومی خزانے کے ممکنہ نقصان سے متعلق اہم معاملہ تھا، لیکن اس الزام کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ تحقیقات اور متعلقہ ریکارڈ سے ہی ہوسکتا ہے۔
دسمبر 2020 کے آخر میں یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ نیب کا سوالنامہ ڈاک کے ذریعے واپس آگیا تھا اور مولانا فضل الرحمان تک نہیں پہنچ سکا یا انہوں نے جان بوجھ کر سوالنامہ وصول کرنے سے انکار کیا تھا۔ اس وقت کی رپورٹوں میں مولانا کے مؤقف اور سوالنامے کی عدم وصولی کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔
اب اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ان ابتدائی اقدامات کے بعد نیب نے کیا کیا؟ کیا سوالنامے کے جوابات حاصل ہوئے؟ کیا متعلقہ اراضی اور اثاثوں کے ریکارڈ کی جانچ مکمل ہوئی؟ کیا کسی شخص کے خلاف باقاعدہ ریفرنس دائر کیا گیا؟ اور اگر تحقیقات بند ہوئیں تو اس کی وجہ کیا تھی؟
یہ معاملہ محض کسی سیاسی رہنما کے خلاف الزام یا سیاسی بیان تک محدود نہیں تھا۔ اس میں اثاثوں کے ذرائع آمدن اور سرکاری زمین کی مبینہ کم قیمت فروخت جیسے سوالات شامل تھے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ نیب یا متعلقہ حکام کی جانب سے تحقیقات کے انجام کے بارے میں مستند معلومات سامنے آئیں۔
دستیاب دسمبر 2020 کی رپورٹوں سے سوالنامہ بھیجے جانے اور سرکاری زمین سے متعلق شکایت کی تحقیقات کا پتا چلتا ہے لیکن ان رپورٹوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف ان معاملات میں حتمی ریفرنس دائر ہوا یا انہیں کسی جرم میں سزا ہوئی یا یہ کیس ختم ہوگیا ہے یا ابھی کیس زیر التوا ہے
لہٰذا بنیادی سوال آج بھی یہی ہے دسمبر 2020 میں شروع ہونے والی اس کارروائی کا انجام کیا ہوا؟ کیا نیب نے ان الزامات کی مکمل تحقیقات کرکے نتیجہ عوام کے سامنے رکھا، یا یہ معاملہ وقت کے ساتھ پس منظر میں چلا گیا ؟ متعلقہ اداروں کی وضاحت ہی اس اہم سوال کا مستند جواب دے سکتی ہے۔