اوپن اے آئی نے انکشاف کیا ہے کہ کمپنی کے ایک تجرباتی مصنوعی ذہانت کے ماڈل نے تربیتی اسائنمنٹ مکمل کرنے کے لیے کرپٹو کرنسی کے والیٹس سے رقم حاصل کرنے کی کوشش کی، حالانکہ اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ جون میں پیش آیا، تاہم اس کی تفصیلات بعد میں سامنے آئیں۔ معاملے میں اوپن اے آئی کے ایک اندرونی تحقیقی ماڈل جی پی ٹی 5.6 سول کا ذکر کیا گیا ہے، جسے جولائی میں چیٹ جی پی ٹی کے ادائیگی کرنے والے صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔
ماڈل کو ایک کرپٹو ٹریڈنگ ایپلی کیشن اپ ڈیٹ کرنے اور ایتھیریم کے ٹیسٹ نیٹ ورک پر اسمارٹ کانٹریکٹس شائع کرنے کا کام دیا گیا تھا۔ اس عمل کے لیے نیٹ ورک فیس درکار تھی، لیکن اوپن اے آئی نے ماڈل کو اس مقصد کے لیے رقم فراہم نہیں کی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ رقم لینے سے پہلے ماڈل نے خود یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا ایسا کرنا اخلاقی طور پر درست ہوگا۔ بعد ازاں اس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ چونکہ یہ والیٹس بظاہر غیر فعال ہیں، اس لیے ان سے رقم حاصل کرنا قابل قبول ہوسکتا ہے۔ تاہم، اوپن اے آئی کے مطابق اسائنمنٹ میں ماڈل کو کسی ایسے اکاؤنٹ سے رقم خرچ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی جسے اس نے خود تلاش کیا تھا۔