خیبر پختونخوا میں انتظامی امور پی ٹی آئی کی نااہلی کے پنجے سے آزاد، 13 سالوں سے رکے منصوبے شروع، عوام میں خوشی کی لہر

خیبر پختونخوا میں انتظامی امور پی ٹی آئی کی نااہلی کے پنجے سے آزاد، 13 سالوں سے رکے منصوبے شروع، عوام میں خوشی کی لہر

وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد قائم کی گئی 11 رکنی کونسل نے صوبے کے انتظامی امور، عوامی سہولیات اور ترقیاتی کاموں کو تیز تر کرنے کے لیے جامع اور اعلیٰ سطح کے اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی 13 سالہ حکومت کی چھوڑی ہوئی محرومیوں کو دور کرنے اور انتظامی ڈھانچے کو مکمل طور پر متحرک کرنے کے لیے بڑی اور انقلابی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

معطل شدہ صوبائی حکومت کی جگہ انتظامی امور کو احسن طریقے سے چلانے کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی ہے جو گورنر ’فیصل کریم کنڈی‘ کی معاونت کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق یہ کونسل گورنر راج کے تحت صوبائی معاملات کو آگے بڑھانے، تمام سرکاری محکموں کی ورکنگ بہتر بنانے اور سروس ڈیلیوری کو بحال کرنے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی دور میں دو سال تک تاخیرکے شکار منصوبے ڈی آئی خان فلائی اوور پر ہنگامی بنیادوں پر تعمیراتی کام تیز کر دیا گیا

 کونسل نے صوبائی بیوروکریسی کی جواب دہی کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائے ہیں جس کے تحت معطل ترقیاتی منصوبوں، بلدیاتی سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے فوری فنڈز واگزار کرنے کی منظوری دی جا رہی ہے۔

انتظامی ذرائع کے مطابق امن و امان کی بحالی کے ساتھ ساتھ گزشتہ طویل عرصے سے رکے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کو تیزی سے ترتیب دیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو بلا تاخیر ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

دیر کالونی سانحہ اور نئی انتظامیہ کی ہنگامی پیشرفت

نئی انتظامیہ کی جانب سے ہنگامی حالات سے نبرد آزما ہونے کا بروقت انداز عوامی حلقوں میں بے حد سراہا جا رہا ہے۔

عوام کی جانب سے دیر کالونی اسکول سانحے کے دوران نئی انتظامیہ کے زبردست اور جرأت مندانہ کردار کی مثالیں دی جا رہی ہیں، جہاں حادثے کے محض ایک گھنٹے کے اندر اندر ملبے سے بچوں کو نکال کر درجنوں معصوم زندگیاں بچائی گئیں۔ اس موقع پر پاک فوج کے جوانوں نے بھی ریسکیو کارروائیوں میں بھرپور اور کلیدی کردار ادا کیا۔

اس کے علاوہ شعبہ صحت کی ذمہ داریاں سنبھالنے والی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ‘نگار جوہر’ کی شاندار کارکردگی اور جذبہ بھی خصوصیت کے ساتھ زیرِ بحث ہے، جنہوں نے اسپتال پہنچ کر تمام زخمی بچوں اور متاثرین کی خود عیادت کی اور دن بھر تمام طبی سہولیات کی فراہمی کی خود نگرانی کرتی رہیں۔

نگار جوہر نے صوبے کے تمام بڑے اسپتالوں اور ایمرجنسی وارڈز کی ری اسٹرکچرنگ اور ادویات کی بلا تعطل فراہمی کے لیے نئے احکامات بھی جاری کر دیے ہیں۔

تعلیمی عمارات کا تحفظ اور صوبائی بحالی کا ایجنڈا

11 رکنی کونسل نے دیر کالونی حادثے کے بعد صوبے بھر کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں کی عمارتوں کا سٹرکچرل اور سیفٹی آڈٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ مستقبل میں اس قسم کی مجرمانہ غفلت کا سدباب کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں:فیصل کریم کنڈی نے خیبر پختونخوا پولیس شہدا کے لیے تاریخی ریلیف پیکیج کا اعلان کر دیا ، شہادت پر ایک کروڑ 70 لاکھ سے ساڑھے 3 کروڑ روپے تک معاوضہ

اس کے ساتھ ساتھ صوبے میں پینے کے صاف پانی، سڑکوں کی مرمت اور ضلعی سطح پر عوامی شکایات کے سدباب کے لیے ’گورنر ہیلپ لائن‘ اور مانیٹرنگ سیل بھی قائم کیے جا رہے ہیں تا کہ عوام کے مسائل دہلیز پر حل کیے جا سکیں۔

سیاسی تناظر اور اصلاحاتی عمل کا جائزہ

صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاق اور گورنر انتظامیہ ان تمام سخت اور اضطراری اقدامات کو خیبر پختونخوا کی بہتری، امن و امان کی صورت حال کی بحالی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ناگزیر قرار دے رہے ہیں۔

صوبے کے معطل شدہ سیاسی نظام اور نئی انتظامی قائم مقام ساخت کا تقابلی مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ طویل سیاسی عدم استحکام اور حکمرانی کے سقم نے صوبائی اداروں کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا تھا، تاہم 11 رکنی کونسل کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر لیے جانے والے فیصلے اور بیوروکریسی سمیت تمام محکموں کا تحرک فی الوقت عوامی ریلیف اور معطل شدہ نظام کو پٹری پر لانے کے لیے ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو رہا ہے۔

Related Articles