بھارت کے شہر کولکتہ میں درگا پوجا کے تہوار کے دوران اچانک بارش اور بھگڈر مچنے سے ایک سات سالہ بچی سمیت کم از کم 19 افراد ہلاک اور 2 درجن سے زیادہ زخمی ہو گئے۔
پنڈال کے باہر جمع ہونے والے ہجوم میں دھکم پیل اور نظم و ضبط کے فقدان کے باعث یہ المیہ رونما ہوا، جس پر وزیراعظم نریندر مودی نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
مغربی بنگال کے وزیر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کولکتہ میں ہندوؤں کے معروف تہوار درگا پوجا کے موقع پر پنڈال کے باہر بھگڈر مچی جس کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں میں ایک 7 سالہ بچی بھی شامل ہے، جبکہ 25 دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔
موقع پر موجود پولیس کے ایک سینیئر افسر نے بتایا کہ رات کے وقت جب اچانک بارش شروع ہوئی تو ایک اعلانات کی وجہ سے وہاں افہ وتفری پھیل گئی۔
پنڈال کے باہر کھڑا ہجوم آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا، جس دوران لوگ آپس میں دھکا لگنے سے زمین پر گر گئے اور اس بھگڈر کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔
واقعے کے بعد ریسکیو ٹیموں اور طبی عملے نے زخمیوں کو فوری طور پر اسٹریچرز پر ڈال کر قریبی اسپتال منتقل کیا، جبکہ اسپتال کے باہر اپنے پیاروں کے سوگ میں عزیز و اقارب کی چیخ پکار سے فضا سوگوار ہو گئی۔
انتظامی کارروائی اور حکومتی ردعمل
ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 17 بتائی گئی تھی جو بعد میں بڑھ کر 19 ہو گئی۔ 9 لاشیں ورثا کے حوالے کی جا چکی ہیں۔
انتظامیہ نے فیسٹیول کے سی سی ٹی وی فوٹیجز قبضے میں لے کر اس بات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ ہجوم کو کنٹرول کرنے میں غفلت برتنے والے ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
حادثے سے قبل کی وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پنڈال کے باہر انتہائی تنگ گلیاں ہیں جہاں سے صرف چند افراد ہی بیک وقت گزر سکتے ہیں، جس کی وجہ سے وہاں شدید رش جمع ہو گیا تھا۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سماجی رابطے کی سائیٹ پر اپنے مختصر بیان میں اس واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کر رہی ہے۔
بھارتی اجتماعات میں سکیورٹی اور مینجمنٹ کا بحران
برصغیر میں بڑے مذہبی اجتماعات اور تہواروں کے دوران اس طرح کے جان لیوا حادثات اور بھگڈر کے واقعات اب ایک تلخ حقیقت بن چکے ہیں، جن کی بنیادی وجہ ہمیشہ سے ناقص انتظامات، ٹریفک اور ہجوم کا خراب مینجمنٹ اور حفاظتی پروٹوکولز کی سنگین خلاف ورزیاں رہی ہیں۔
گزشتہ برسوں کے دوران ایسے متعدد ہولناک واقعات نے حکومتی اور انتظامی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگائے ہیں۔
مثال کے طور پر، گزشتہ سال بھارت کے ایک بڑے مذہبی میلے میں بھگڈر کے باعث 30 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے، جبکہ ایک مقامی کرکٹ ٹیم کی کامیابی کے جشن کے دوران بھی تماشائیوں کی بھگڈر سے قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
اس کے علاوہ سیاسی ریلیوں اور دیگر مذہبی اجتماعات میں بھی حفاظتی انتظامات کی کمزوری کے باعث سینکڑوں افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور منتظمین عوام کی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے پیشگی حکمت عملی اپنانے میں بری طرح ناکام رہتے ہیں۔
اگر اس قسم کے بڑے اجتماعات کے لیے جدید کراؤڈ کنٹرول ٹیکنالوجی، وسیع راستوں کے انتظامات اور ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب اور راہداری کے ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد نہ کیا گیا، تو ایسے المناک حادثات مستقبل میں بھی قیمتی انسانی جانوں کے زیاں کا سبب بنتے رہیں گے۔