سیاسی یتیمی اور اقتدار کی ہوس نے فضل الرحمن کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا، پاک افواج کیخلاف ہرزہ سرائی برداشت نہیں ! سرگودھا کے شہریوں کا شدید ردِعمل

سیاسی یتیمی اور اقتدار کی ہوس نے فضل الرحمن کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا، پاک افواج کیخلاف ہرزہ سرائی برداشت نہیں ! سرگودھا کے شہریوں کا  شدید ردِعمل

 فضل الرحمن کے پاک فوج کے شہداء سے متعلق تضحیک  آمیز بیان پر سرگودھا  کے عوام نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے ، شہریوں نے فضل الرحمان کی سیاست، ان کے حالیہ رویے اور پاک فوج سمیت شہداء کے خلاف بیانات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے پاک فوج کی قربانیوں اور شہداء کے حوالے سے سامنے آنے والے حالیہ  بیان پر عوامی و سیاسی حلقوں میں شدید تشویش اور غصے کی لہر دوڑ گئی ہے ، سرگودھا کے شہریوں، کونسلرز اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اس بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مسلح افواج کی عظیم قربانیوں کی توہین قرار دیا ہے۔

سربراہ جے یو آئی کے ریاستی اداروں کیخلاف حالیہ بیان کو سرگودھا کی عوام نے دو ٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا،  عوام کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے ملک اور ریاست ہے، سیاست بعد میں آتی ہے۔

  خیبر پختونخوا کی سیاست اور فضل الرحمن کا طرزعمل

مقامی شہریوں کے مطابق خیبر پختونخوا (کے پی کے) کی صوبائی حکومت یا سیاسی سیٹ اپ میں مطلوبہ حصہ نہ ملنے اور سیاسی تنہائی کے باعث جے یو آئی (ف) کی قیادت میں شدید بوکھلاہٹ دیکھی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں قومی اداروں کے خلاف غصہ نکالا جا رہا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ  کے پی کے میں گورنر راج لگانا حکومتِ پاکستان کا ایک بہت ہی اچھا اقدام ہے اور یہ وقت کی ضرورت تھی کہ پاکستان میں دہشت گردی دن بدن بڑھ رہی تھی اور کے پی کے کے وزیرِ اعلیٰ ایسے اقدامات نہیں کر رہے تھے، جس کی وجہ سے وہاں کے حالات دن بدن خراب ہو رہے تھے ۔

اداروں کی توہین برداشت نہیں ، شہریوں کا معافی کا مطالبہ 

شہریوں  کا کہنا ہے کہ پاکستان فوج ہماری ریڑھ کی ہڈی ہے ،  پہلے ریاست ہے اور اس کے بعد کچھ اور ہے، ریاست کے علاوہ ہم کچھ بھی نہیں ہیں ، پاکستان فوج دن رات پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے اور اس کے خلاف کوئی بات کرے تو ہم اسے برداشت نہیں کر سکتے ،  سنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان صاحب سرگودھا کوئی تحریک چلانے آ رہے ہیں ، سمجھ نہیں آ رہا کہ پہلے وہ حکومت کے ساتھ ہوتے ہیں، جب مٹھائی تقسیم ہوتی ہے تو ساتھ ہوتے ہیں، اور جب انہیں نہ پوچھا جائے تو وہ حکومت کے خلاف ہو جاتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں :تباہی کے تماشائی نہیں بن سکتے! شہباز شریف کا دوٹوک اعلان، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے فیصلے کا دفاع

سرگودھا کے عوام کا کہنا تھا کہ اب عوام باشعور ہو چکے ہیں، وہ ان کی باتوں میں نہیں آئیں گے ، ہم مولانا کے شہدا اور پاک فوج سے متعلق غلط بیانات کی مذمت کرتے ہیں ،  سرگودھا کی مختلف شہری تنظیموں اور تاجر برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ فضل الرحمن پاک فوج اور شہداء کے لواحقین کے جذبات کو مجروح کرنے پر فوراً قوم سے بلا مشروط معافی مانگیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ وطنِ عزیز کی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے افسران اور جوانوں کا خون شامل ہے، اور قوم ہر مشکل گھڑی میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ختم ہونے تک رہیں گے، ہمارا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں، طلال چوہدری

سیاسی معتبر شواہد بتاتے ہیں کہ اقتدار کی کشمکش اور کے پی کے میں ناکام سیاسی سودے بازی کے بعد مولانا فضل الرحمن نے سیاسی بیانیے کو اداروں کی طرف موڑنے کی کوشش کی ہے تاہم، سرگودھا سمیت ملک بھر میں اس طرزِ عمل کو سستی شہرت حاصل کرنے اور ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی سیاسی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

شہریوں کاکہنا ہے کہ شہداء کی مقدس قربانیوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے یا ان کی تضحیک کرنے کی کسی بھی کوشش کو قوم ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔

editor

Related Articles