خیبر پختونخوا میں سانحہ دیر کالونی اسکول پشاور کے بعد سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نے صوبے بھر کے تعلیمی اداروں کی خستہ حال عمارتوں کے باضابطہ معائنے اور سروے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
ابتدائی معائنہ رپورٹس کے مطابق صوبے کے متعدد اضلاع میں سرکاری اسکولوں کی عمارتیں اور درجنوں کلاس رومز انتہائی خستہ حال اور استعمال کے لیے مکمل طور پر غیر محفوظ قرار دیے گئے ہیں۔
اضلاع سے سامنے آنے والی خوفناک رپورٹس اور اعداد و شمار
محکمہ تعلیم کے مطابق جاری معائنے کے دوران مختلف اضلاع سے تشویشناک حقائق سامنے آ رہے ہیں۔ ہری پور میں لڑکیوں کے 3 سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کی حالت کو مکمل طور پر خستہ حال قرار دیا گیا ہے، جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں لڑکوں کے 2 سرکاری اسکولوں کے متعدد کلاس رومز شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔
چارسدہ میں لڑکیوں کے 3 سرکاری اسکولوں کے 15 کلاس رومز جبکہ کرک کے ایک سرکاری اسکول میں موجود کل 2 کلاس رومز اور دونوں ہی انتہائی خستہ حال پائے گئے۔ اسی طرح لکی مروت کے 2 سرکاری اسکولوں کے 5 میں سے 4 کلاس رومز کی حالت شدید خراب بتائی گئی ہے۔
بونیر، لوئر دیر اور دیگر اضلاع کی ابتر صورتحال
محکمہ تعلیم کی جانب سے مرتب کی جانے والی رپورٹ کے مطابق بونیر کے بدال سرکاری اسکول کے 6 میں سے 4 کلاس رومز شدید خستہ حالی کا شکار ہیں، جبکہ مردان کے بھی کئی اسکولوں کے کمروں کو استعمال کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔
لوئر دیر میں صورتحال مزید ابتر ہے جہاں 3 سرکاری اسکولوں کی پوری عمارتیں ہی استعمال کے قابل نہیں رہیں۔ محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ جامع رپورٹ فی الوقت مرتب کی جا رہی ہے تاکہ تمام تر متاثرہ اسکولوں کی درست معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔
پشاور دیر کالونی اسکول کی چھت گرنے کے المناک سانحے اور اس کے بعد سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے اٹھائے جانے والے شدید احتجاج اور تحریری و تصویری ثبوتوں نے صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم کو فوری ایکشن لینے پر مجبور کیا۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے دور افتادہ اور دیہی علاقوں میں قائم سرکاری اسکولوں کی عمارتیں طویل عرصے سے مرمت اور دیکھ بھال کی منتظر تھیں۔
ماضی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے دور حکومت میں فنڈز کی عدم دستیابی اور انتظام کاری کی غفلت کی وجہ سے ان عمارتوں کی حالت وقت کے ساتھ ساتھ مزید بگڑتی چلی گئی، جس کی وجہ سے معصوم طلبہ اور اساتذہ کی زندگیوں کو مسلسل خطرات لاحق رہے۔
سانحہ پشاور کے بعد محکمہ تعلیم کا متحرک ہونا اور اسکولوں کی عمارتوں کے معائنے کا آغاز کرنا ایک آئینی اور اخلاقی فرض کا اعادہ تو ہے، لیکن یہ کارروائی حکومت کے روایتی ردِعمل پر مبنی پالیسی کا پردہ چاک کرتی ہے۔
جب تک کوئی بڑا حادثہ یا سانحہ جنم نہیں لیتا، تب تک تعلیمی انفراسٹرکچر کی زبوں حالی پر توجہ نہ دینا ہمارے بنیادی ڈھانچے اور گورننس کے بحران کو ظاہر کرتا ہے۔
اگر صرف ابتدائی رپورٹ کا جائزہ لیا جائے تو ہری پور، چارسدہ، لوئر دیر، کرک اور لکی مروت جیسے اضلاع میں درجنوں کلاس رومز کا نا قابلِ استعمال ہونا اس بات کا کھلم کھلا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی حکومت بچوں کو بنیادی اور محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنے میں حکومتیں مسلسل ناکام رہی ہیں۔
محض معائنہ رپورٹس مرتب کرنا مسئلے کا حل نہیں ہو گا، بلکہ حکومت کو فوری طور پر ہنگامی فنڈز مختص کر کے ان خطرناک عمارتوں کی تعمیرِ نو اور متبادل محفوظ جگہوں کی فراہمی یقینی بنانی ہوگی تاکہ آئندہ کسی بھی ممکنہ جانی نقصان اور المیے سے بچا جا سکے۔