روس اور یوکرین میں امن معاہدے کے لیے نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے، ٹرمپ کا دعویٰ

روس اور یوکرین میں امن معاہدے کے لیے نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے، ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات کر رہے ہیں اور ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتے جس سے روس مذاکرات کی میز سے دور ہو جائے۔ ان کے مطابق روسی برآمدات سے متعلق پابندیوں اور محصولات میں نرمی کا مقصد بھی روس کو مذاکراتی عمل میں شامل رکھنا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ روس سے متعلق ان کا فیصلہ بالکل سادہ ہے۔ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے امن معاہدہ چاہتے ہیں اور اس مقصد کے حصول میں کسی غیر ارادی رکاوٹ کا باعث نہیں بننا چاہتے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے، جس میں یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق جاری مذاکرات بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روسی برآمدات سے متعلق پابندیوں اور محصولات کو ہٹانے یا ان میں نرمی کرنے کا فیصلہ روس کو مذاکرات کی میز پر برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ روس اس وقت ایران کی مدد بہت کم یا بالکل نہیں کر رہا، حالانکہ وہ اس سے کہیں زیادہ مدد فراہم کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ صورتِ حال اسی طرح برقرار رہے اور اس میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ روس میں ڈیزل ریفائنریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، حالانکہ ان حملوں کے اثرات عالمی ڈیزل مارکیٹ پر پڑ رہے ہیں، جن میں امریکا بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مذہب کے نفاذ کے لیے اتحاد بنایا، انتخابی نشان کتاب کو قرآن کا نام دیکر ووٹ لیے ، اقتدار ملا تو کیا ہوا؟ فضل الرحمان کی سیاست کا جائزہ

ان کے مطابق اس صورتِ حال سے کسان، مویشی پالنے والے اور مختلف شعبوں سے وابستہ کاروبار متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ روس اس کے باوجود کم قیمت پر لاکھوں بیرل ڈیزل عالمی منڈی میں بھیج رہا ہے۔

امریکی صدر نے زیلنسکی پر جنگ ختم کرنے میں عدم دلچسپی کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ کی جانب سے یوکرینی صدر کو بھاری مالی امداد دی جا رہی ہے، جبکہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی انہیں رقم فراہم کی تھی۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ خود اس جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی انتخابات میں اپنے اتحادی اور موجودہ وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی حمایت کا اعلان بھی کیا ہے۔

ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ’عظیم جنگجو وزیراعظم‘ اور امن کا شراکت دار قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی۔ انہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں امریکا کا ساتھ دینے پر بھی اسرائیلی وزیراعظم کو سراہا۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles