مذہب کے نفاذ کے لیے اتحاد بنایا، انتخابی نشان کتاب کو قرآن کا نام دیکر ووٹ لیے ، اقتدار ملا تو کیا ہوا؟ فضل الرحمان کی سیاست کا جائزہ

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں متحدہ مجلسِ عمل (ایم ایم اے) کا قیام اور 2002 کے عام انتخابات میں اس کی کامیابی مذہبی سیاست کا ایک اہم باب ہے۔ چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد نے اسلام کے نفاذ، شریعت، انصاف اور امریکہ مخالف مؤقف کو اپنی سیاسی مہم کا نمایاں حصہ بنایا۔ مولانا فضل الرحمان اس اتحاد کی اہم قیادت میں شامل تھے، جبکہ انتخابی کامیابی کے بعد ان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کو صوبائی حکومت میں وزارتِ اعلیٰ کا منصب بھی ملا۔ تاہم اس سیاسی سفر میں مذہبی وعدوں، انتخابی مہم کے طریقۂ کار، اقتدار کی تقسیم اور اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات پر کئی سوالات اٹھتے رہے۔

مذہبی جماعتوں کا اتحاد کیسے بنا؟

2001 میں افغانستان پر امریکی حملے اور خطے کی بدلتی صورتِ حال کے بعد پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات میں اضافہ ہوا۔ مذہبی جماعتوں نے افغانستان کے معاملے پر مشترکہ مؤقف اختیار کیا اور بعد ازاں انتخابی اتحاد کی شکل میں متحدہ مجلسِ عمل قائم کی۔ اس اتحاد میں مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علمائے اسلام (ف)، جماعتِ اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (س)، جمعیت علمائے پاکستان (نورانی)، جمعیت اہلِ حدیث اور تحریکِ جعفریہ پاکستان شامل تھیں۔

ڈان میں اکتوبر 2002 میں شائع ہونے والے تجزیے کے مطابق، مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والی ان جماعتوں نے اپنے اختلافات عارضی طور پر پسِ پشت ڈال کر مشترکہ انتخابی ایجنڈا اختیار کیا۔ افغانستان پر امریکی کارروائی، پرویز مشرف حکومت کی امریکہ کے ساتھ پالیسی اور اسلام کے نفاذ کا نعرہ ان کی سیاسی مہم کے اہم عناصر تھے۔ 

اس اتحاد کی کامیابی نے مذہبی جماعتوں کو قومی سیاست میں نمایاں مقام دیا۔ لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی پیدا ہوا کہ کیا مختلف مذہبی جماعتوں کا یہ اتحاد کسی مستقل مشترکہ نظریاتی اور حکومتی پروگرام پر قائم تھا یا بدلتے سیاسی حالات نے انہیں ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا تھا؟

کتاب کا انتخابی نشان اور قرآن کے نام پر ووٹ

ایم ایم اے کو 2002 کے انتخابات میں کتاب کا انتخابی نشان ملا۔ اس نشان کو انتخابی مہم میں قرآنِ مجید سے جوڑ کر پیش کیے جانے کا ذکر اس دور کی صحافتی اور تحقیقی تحریروں میں ملتا ہے۔ ڈان کے 17 اکتوبر 2002 کے تجزیے میں لکھا گیا کہ مذہبی جماعتوں نے کتاب کے نشان کو مقدس کتاب سے منسلک کرتے ہوئے مذہبی جذبات کو انتخابی مہم میں استعمال کیا۔ اسی تحریر میں اسلام کو خطرے کا سامنا ہونے کے نعروں اور انتخابی مقابلے کو اسلام اور کفر کی کشمکش کے طور پر پیش کیے جانے کا بھی ذکر ہے۔

2011 میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی تحریر، جو 2002 کے انتخابات میں مذہبی سیاست کا جائزہ لیتی ہے، بھی بیان کرتی ہے کہ بعض مذہبی رہنماؤں اور کارکنوں نے کتاب کے انتخابی نشان کو قرآنِ مجید سے تعبیر کیا اور ووٹرز کو اس نشان کے حق میں ووٹ دینے کی ترغیب دی۔ 

یہی وہ پہلو ہے جس پر سیاسی اور اخلاقی بحث کی ضرورت ہے۔ قرآنِ مجید مسلمانوں کے لیے مقدس کتاب ہے، جبکہ کتاب کا انتخابی نشان ایک سیاسی اتحاد کی انتخابی شناخت تھا۔ اگر انتخابی مہم میں دونوں کو اس انداز سے پیش کیا گیا کہ ووٹر کو نشان پر مہر لگانا مذہبی فریضے کی ادائیگی محسوس ہو، تو یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ مذہبی عقیدت اور سیاسی انتخاب کے درمیان فرق کو کس حد تک برقرار رکھا گیا۔

البتہ کسی مخصوص جملے، مثلاً ’’کتاب کو ووٹ دینا قرآن کو ووٹ دینے کے برابر ہے‘‘، کو مولانا فضل الرحمان کا براہِ راست بیان قرار دینے کے لیے اصل ویڈیو، تقریر یا مستند انتخابی مواد درکار ہے۔ دستیاب تاریخی تحریریں مجموعی انتخابی حکمتِ عملی پر روشنی ڈالتی ہیں، لیکن ہر بیان کی ذمہ داری الگ سے ثابت کرنا ضروری ہے۔

اقتدار ملا تو وزارتِ اعلیٰ کس کے حصے میں آئی؟

2002 کے انتخابات میں ایم ایم اے نے قومی اسمبلی میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور صوبہ سرحد، جو اب خیبر پختونخوا کہلاتا ہے، میں صوبائی اسمبلی کی 99 عمومی نشستوں میں سے 53 جیتیں۔ بلوچستان میں بھی اتحاد حکومت سازی میں شریک ہوا۔

ڈان کی 16 اکتوبر 2002 کی رپورٹ کے مطابق، صوبے میں حکومت سازی کے لیے وزارتِ اعلیٰ جمعیت علمائے اسلام (ف) کو دینے اور اسمبلی کی اسپیکر شپ جماعتِ اسلامی کے حصے میں رکھنے سمیت اہم عہدوں کی تقسیم پر اتفاق کیا گیا۔ 

یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے: مولانا فضل الرحمان خود اس وقت صوبے کے وزیرِاعلیٰ نہیں بنے تھے۔ ان کی جماعت کے امیدوار اکرم خان درانی 29 نومبر 2002 کو صوبے کے وزیرِاعلیٰ منتخب ہوئے، جبکہ مولانا فضل الرحمان ایم ایم اے کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے اتحاد کی قومی سیاست میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔

یوں مذہبی جماعتوں نے شریعت کے نفاذ اور اسلامی نظام کے وعدوں کے ساتھ انتخابی کامیابی حاصل کی اور انہیں حکومت چلانے کا موقع ملا۔ اب اصل امتحان ان وعدوں کو عملی پالیسی، قانون سازی، انصاف اور عوامی فلاح میں تبدیل کرنا تھا۔

وعدوں اور حکومتی کارکردگی کا سوال

ایم ایم اے کی انتخابی مہم میں اسلامی نظام، فوری انصاف اور بدعنوانی کے خاتمے جیسے وعدے نمایاں تھے۔ اس لیے اس کی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ بھی انہی وعدوں کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔

2018 میں ڈان نے ایم ایم اے کی واپسی سے متعلق اپنے تجزیے میں لکھا کہ خیبر پختونخوا میں اتحاد کے پانچ سالہ دورِ حکومت میں کارکردگی توقعات پر پوری نہیں اتری۔ رپورٹ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعتِ اسلامی کے درمیان اقتدار کی کشمکش کو حکومت کی مشکلات کی ایک وجہ قرار دیا گیا

یہ ریکارڈ اس سوال کو اہم بناتا ہے کہ مذہبی نظام کے نفاذ کے بلند بانگ وعدوں کے مقابلے میں تعلیم، صحت، انصاف، انتظامی اصلاحات اور عوامی سہولتوں کے شعبوں میں کیا نتائج حاصل ہوئے؟ کیا اتحادی قیادت نے عوام کو اپنی کارکردگی کا جامع اور قابلِ تصدیق حساب دیا؟ ان سوالات کا حتمی جواب حکومتی فیصلوں، بجٹ، قانون سازی اور متعلقہ اعدادوشمار کے تفصیلی جائزے سے ہی دیا جا سکتا ہے۔

مذہبی جماعتوں کے اتحاد میں اختلافات

ایم ایم اے کا قیام مختلف مسالک اور سیاسی ترجیحات رکھنے والی جماعتوں کو ایک انتخابی پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش تھی۔ تاہم اقتدار کی تقسیم، قیادت اور پالیسیوں کے معاملات میں اختلافات سامنے آئے۔ ڈان کے 2018 کے تجزیے نے جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعتِ اسلامی کے درمیان اقتدار کی کشمکش کو اتحاد کی حکمرانی کے مسائل میں شامل کیا۔

یہ صورتِ حال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ اگر مذہبی جماعتیں ایک مشترکہ اسلامی ایجنڈے کے تحت متحد ہوئی تھیں تو اقتدار میں آنے کے بعد ان کے اختلافات کس حد تک اس ایجنڈے پر غالب آ گئے؟ کیا مشترکہ منشور اور مذہبی نعرے اتحاد کو دیرپا رکھنے کے لیے کافی ثابت ہوئے، یا عہدوں اور سیاسی مفادات پر اختلافات نے اس کی یکجہتی کو کمزور کیا؟

تاہم یہ کہنا کہ مولانا فضل الرحمان نے تمام اتحادی جماعتوں کو جان بوجھ کر استعمال کیا یا بعد میں انہیں ’’ٹھوکر مار دی‘‘ ایک سیاسی الزام یا رائے ہوگی۔ اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے اتحاد کے ٹوٹنے، جماعتوں کے فیصلوں، قیادت کے بیانات اور واقعات کی الگ الگ شہادت درکار ہے۔

آج کے تناظر میں بنیادی سوال

ایم ایم اے کی 2002 کی سیاست کا جائزہ لیتے ہوئے اصل سوال کسی مذہبی جماعت کے انتخاب لڑنے یا حکومت بنانے کے حق پر نہیں، بلکہ مذہب کے نام پر ووٹ لینے کے بعد عوامی وعدوں کی تکمیل پر ہے۔

کتاب کے نشان کو قرآنِ مجید سے جوڑنے کی انتخابی حکمتِ عملی، اسلامی نظام کے نفاذ کے وعدے، صوبے میں وزارتِ اعلیٰ کا حصول اور بعد میں اتحادی اختلافات—یہ تمام پہلو سیاسی تاریخ کا حصہ ہیں۔ ان کا تنقیدی جائزہ لینا جمہوری احتساب کا تقاضا ہے۔

مولانا فضل الرحمان اور ایم ایم اے کی قیادت سے بنیادی سوال یہی ہے: اگر عوام سے اسلام، شریعت، انصاف اور دیانت دار حکمرانی کے نام پر ووٹ مانگے گئے تھے تو ان وعدوں کی تکمیل کا ریکارڈ کیا ہے؟ انتخابی کامیابی کو مذہبی اعتماد سے جوڑنے والی جماعتوں کو اپنی حکومتی کارکردگی اور سیاسی فیصلوں کی جواب دہی بھی اسی سنجیدگی سے کرنی چاہیے۔

مذہبی نعرہ انتخابی کامیابی دلا سکتا ہے، لیکن عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے وعدوں، پالیسیوں اور عملی نتائج کا حساب دینا ضروری ہوتا ہے۔ یہی وہ پیمانہ ہے جس پر ایم ایم اے کے ماضی اور مولانا فضل الرحمان کی سیاسی حکمتِ عملی کو پرکھا جانا چاہیے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles