پشاور میں حکومت کی تبدیلی کے بعد شہر کی صفائی اور انتظامی معاملات بہتر بنانے کے اقدامات شروع کردئیے گئے ہیں اور صفائی کا عملہ متحرک ہوگیا ہے ،شہر میں صفائی ستھرائی کی صورت حال اور شہری سہولتوں سے متعلق اقدامات نے گزشتہ 13 سال کے دوران خیبر پختونخوا میں برسراقتدار رہنے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
شہری علاقوں میں صفائی، نکاسی آب اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کسی بھی حکومت کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہوتی ہے،پشاور جیسے بڑے شہر میں ان مسائل کا حل نہ صرف شہریوں کے معیارِ زندگی بلکہ صحت عامہ اور ماحول کی بہتری کے لیے بھی ضروری ہے۔ 13 سالہ دورِ حکومت پر سوالات
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے طویل دورِ حکومت کے دوران پشاور میں شہری مسائل کے حل کے حوالے سے کیے گئے اقدامات ایک بار پھر زیر بحث آگئے ہیں۔شہر میں صفائی کے انتظامات بہتر بنانے کے لیے شروع کی جانے والی سرگرمیوں کو حکومت کی تبدیلی کے بعد انتظامی ترجیحات میں ممکنہ تبدیلی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا بلدیاتی اداروں اور متعلقہ محکموں کی ذمہ داری ہے، تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے مستقل نگرانی، مؤثر منصوبہ بندی اور وسائل کے درست استعمال کی ضرورت ہوتی ہے۔
صفائی کے اقدامات توجہ کا مرکز
پشاور میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے اقدامات ایسے وقت میں اہمیت اختیار کر گئے ہیں جب شہریوں کو طویل عرصے سے درپیش مسائل کے حل کی توقعات بڑھ رہی ہیں۔
شہر میں صفائی کے انتظامات کی بہتری کے لیے جاری سرگرمیوں کے نتائج کا اندازہ عملی اقدامات، صاف کیے جانے والے علاقوں اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی سہولتوں سے لگایا جا سکے گا۔
حکومت کی تبدیلی کے بعد شروع ہونے والے اقدامات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ صفائی کے انتظامات کو عارضی سرگرمی کے بجائے مستقل نظام کی شکل دی جاتی ہے یا نہیں پشاور کے شہریوں کے لیے اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ شہر کو گندگی سے پاک کرنے، نکاسی آب کے مسائل حل کرنے اور صاف ماحول برقرار رکھنے کے لیے اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رہیں۔