اثاثوں کی واپسی، نیب نے سرکاری زمینوں اور عوام سے فراڈ کی رقوم کی ریکوری کی تفصیلات پیش کردیں

اثاثوں کی واپسی، نیب نے سرکاری زمینوں اور عوام سے فراڈ کی رقوم کی ریکوری کی تفصیلات پیش کردیں

چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا ہے کہ نیب نے جولائی سے ستمبر کے دوران اہم ریکوریز کی ہیں، جن کی تفصیلات صحافیوں کے ساتھ شیئر کی جا رہی ہیں۔ نیب حکام کے مطابق سرکاری اثاثوں کی واپسی، عوام سے فراڈ کے مقدمات اور منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائیاں ادارے کی ترجیحات میں شامل ہیں۔

چیئرمین نیب نے نیب ٹیم کے ہمراہ صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارے کو حالیہ عرصے میں اہم نتائج حاصل ہوئے ہیں، انہوں نے کہا کہ اس بریفنگ میں ڈی جی پاکستان ریلوے بھی موجود ہیں، جبکہ ڈی جی آپریشنز امجد اولکھ ریکوری سے متعلق تفصیلات پیش کریں گے۔
عوام سے فراڈ کے 207 ارب روپے واپس
ڈی جی آپریشنز نیب امجد اولکھ نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ مارچ 2023 سے دسمبر 2025 تک 41 ارب ڈالر کی ریکوری ہوئی  ان کے مطابق عوام الناس سے فراڈ کے مقدمات میں 207 ارب روپے برآمد کرکے متاثرین کو واپس کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ سرکاری زمینوں کی واپسی کے لیے سندھ اور پنجاب میں ٹاسک فورسز تشکیل دی جا چکی ہیں، جن کے ذریعے سرکاری اثاثوں کی نشاندہی اور واگزاری کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مختلف علاقوں میں اربوں روپے کی زمین واگزار
نیب حکام کے مطابق بلوچستان میں جنگلات کی زمین واگزار کرائی گئی، جس کی مالیت 1.712 ٹریلین روپے بتائی گئی ہے  اسی طرح لاہور میں 563 ارب روپے مالیت کی سرکاری زمین واگزار کرانے کی اطلاع دی گئی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان ریلوے کی پنجاب اور سندھ میں واقع مجموعی طور پر 2 لاکھ 35 ہزار 622 کنال زمین واگزار کرائی گئی ہے۔ نیب کے مطابق اس زمین کی مجموعی مالیت 6.78 ٹریلین روپے بنتی ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ واگزار کرائے گئے اثاثوں کو اگر حکومت نیلام کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس سے حاصل ہونے والی رقم بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔

ایم ایل ون منصوبہ اپنے وسائل سے بنانے کی تجویز

ڈی جی نیب نے کہا کہ واگزار کرائے گئے اثاثوں کو فروخت کرکے حاصل ہونے والی رقم پاکستان ریلوے کے اہم منصوبے ایم ایل ون (مین لائن ون) پر خرچ کی جا سکتی ہے،انہو ں نے کہا کہ  اس صورت میں منصوبے کے لیے بیرون ملک سے رقم حاصل کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

انہوں نے اس حوالے سے مکمل یقین کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایم ایل ون منصوبہ سو فیصد اپنے وسائل سے تعمیر کر سکتا ہے، بشرطیکہ واگزار شدہ اثاثوں کو نیلام کرنے اور ان سے حاصل ہونے والی رقم منصوبے کے لیے مختص کرنے کا فیصلہ کیا جائے۔
2026 میں ریکوری کے اعداد و شمار
ڈی جی آپریشنز نیب نے بریفنگ میں 2026 کے مختلف کوارٹرز کی ریکوری کے اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ ان کے مطابق سال کی پہلی سہ ماہی میں 2.962 ٹریلین روپے، دوسری سہ ماہی میں 2.425 ٹریلین روپے اور تیسری سہ ماہی میں 9.18 ٹریلین روپے کی ریکوری ہوئی۔

حکام کی جانب سے پیش کیے گئے ان اعداد و شمار میں ریکوری کی مختلف اقسام اور ان کے حساب کتاب کی مزید تفصیلات سامنے آنا اہم ہوگا، خصوصاً یہ کہ نقد رقوم، واگزار کرائی گئی زمینوں اور دیگر اثاثوں کی مالیت کو کس بنیاد پر مجموعی ریکوری میں شامل کیا گیا ہے۔

نیب حکام نے بریفنگ میں سرکاری املاک کی واپسی، مالیاتی جرائم کے خلاف کارروائیوں اور عوام سے فراڈ کے متاثرین کو رقوم واپس کرنے سے متعلق اقدامات کو نمایاں کیا۔ ایم ایل ون منصوبے کے لیے واگزار اثاثوں سے وسائل پیدا کرنے کی تجویز بھی بریفنگ کا اہم حصہ رہی۔

editor

Related Articles