انگریزی ادب کے عظیم شاعر و ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئرکا طویل عرصے سے گمشدہ گھر بالآخر تقریباً 400 سال بعد دریافت کر لیا گیا۔غیر ملکی رپورٹس کے مطابق مورخین کافی عرصے سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ شہرت کے عروج کے دور میں شیکسپیئر کہاں رہتے تھے۔
عام خیال یہ تھا کہ وہ صرف ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے آبائی گھر واپس گئے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا رہا کہ زندگی کے آخری ایام میں شیکسپیئربلیک فریئرز میں ایک جائیداد کے مالک تھے لیکن اس کا درست مقام واضح نہیں تھا۔
اب نئی تحقیق میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ بلیک فریئرز کی ایک پُرسکون گلی کے قریب واقع ایک عمارت جس پر نیلی تختی لگی ہے کو شیکسپیئر کے گھر سے جوڑا جا رہا ہے۔ یہ انکشاف ایک پروفیسر کی تحقیق کے دوران سامنے آیا، جو لندن کے دو پلے ہاؤسز کا جائزہ لے رہے تھے۔
تحقیق کے دوران تین اہم دستاویزات ملیں دو لندن ارچیوس سے اور ایک دی نیشنل ارچیوس سے۔ ان دستاویزات نے نہ صرف 1613 میں خریدی گئی جائیداد کا درست مقام واضح کیا بلکہ اس کی ساخت اور سائز کے بارے میں بھی معلومات فراہم کیں۔
ریکارڈز کے مطابق اس مقام پر پہلے ایک بڑی عمارت موجود تھی جو ایل کی شکل میں بنی ہوئی تھی اور قریبی تھیٹر اور پب کے قریب واقع تھی۔ تاہم یہ عمارت بعد میں آگ لگنے کے باعث تباہ ہو گئی۔
مزید یہ کہ دستاویزات سے پتا چلا کہ 1665 میں آگ لگنے کے واقعے سے ایک سال قبل شیکسپیئر کی پوتی الزبتھ ہال نیش برنارڈ نے یہ جائیداد فروخت کر دی تھی۔