خلا کی وسعتوں میں ایک حیران کن منظر سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے جہاں دو کہکشائیں مل کر دل جیسی خوبصورت شکل بنا رہی ہیں۔
خلائی ماہرین کے مطابق ’اینٹینی کہکشائیں‘ کہلانے والی یہ کہکشائیں دراصل این جی سی4038 اوراین جی سی4039 ہیں جو زمین سے تقریباً 60 ملین نوری سال کے فاصلے پر واقع ہیں اور آہستہ آہستہ ایک دوسرے سے ٹکرا رہی ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ تصادم تباہی نہیں بلکہ تخلیق کا عمل ہے۔ گزشتہ ایک ارب سال سے جاری اس ٹکراؤ کے باعث گیس اور گرد و غبار دباؤ میں آ کر نئے ستاروں کو جنم دے رہے ہیں۔
خلائی ماہرین کے مطابق تصویر میں نظر آنے والے گلابی رنگ کے روشن علاقے دراصل ہائیڈروجن گیس ہیں جہاں نئے ستارے بننے کا عمل جاری ہے۔
اسی طرح کہکشاؤں کی پھیلی ہوئی شکلیں جو کسی فنکار کی برش اسٹروکس جیسی لگتی ہیں دراصل کششِ ثقل کی طاقت کا نتیجہ ہیں جو مادے کو ایک نئی شکل دے رہی ہے۔
ماہرین فلکیات کا مزید کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ یہ دونوں کہکشائیں مکمل طور پر ضم ہو کر ایک نئی کہکشاں کی شکل اختیار کر لیں گی۔یہ منظر اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ کائنات میں افراتفری کے اندر بھی خوبصورتی اور تخلیق چھپی ہوتی ہے۔