خیبر پختونخوا میں آئینی تبدیلی کے خلاف ٹی ٹی پی اور تحریک انصاف کے بیانیے میں مماثلت

خیبر پختونخوا میں آئینی تبدیلی کے خلاف ٹی ٹی پی اور تحریک انصاف کے بیانیے میں مماثلت

خیبر پختونخوا میں آئینی تبدیلی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی ) کے بیان کے بعد دہشتگردی اور کے پی میں سیاسی گٹھ جوڑ پر شدید ترین تشویش پیدا کر دی ہے۔

خیبر پختونخوا کی سیاسی فضا میں ہونے والی حالیہ آئینی تبدیلی اور گورنر راج کے نفاذ کے ردعمل میں کالعدم تحریک طالبان، جسے ’فتنہ الخوارج‘ کے نام سے جانا جاتا ہے،  کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کو پاکستان کے سیکیورٹی اور سیاسی منظر نامے کو انتہائی حساس ترین شمار کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور امریکا کے تجارتی تعلقات میں نئی پیش رفت ،تجارتی رکاوٹیں دور کرنے اور منڈیوں تک رسائی پر اتفاق

اس بیان نے نہ صرف دارالحکومت سے لے کر صوبائی حلقوں تک ہلچل مچا دی ہے بلکہ ایک بار پھر عسکریت پسندی اور سیاست کے مابین پوشیدہ اور خطرناک روابط کو بے نقاب کر دیا ہے، جس پر سول و عسکری حلقوں کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

تحریک انصاف کے 13 سالہ دورِ حکومت

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان کے سامنے آنے کا وقت انتہائی معنی خیز اور غور طلب ہے کیونکہ یہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے 13 سالہ طویل اقتدار کے خاتمے کے فوری بعد جاری کیا گیا ہے۔

تحریک انصاف کا یہ دورِ حکومت کمزور گورننس، اہم فیصلوں میں ہچکچاہٹ اور ایسی پالیسیوں کی وجہ سے متنازع رہا ہے جنہوں نے بالواسطہ طور پر عسکریت پسند نیٹ ورکس کو پنپنے کا موقع دیا۔

مزید پڑھیں:آپریشن ردالفتنہ۔3، قلات اور گوادر میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں فتنہ الہندوستان کے 4 دہشتگرد ہلاک

میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں صوبے میں دہشتگردی کے ناسور کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لیے درکار سیاسی عزم کا مسلسل فقدان رہا، جبکہ ایک ایسا کمزور بیانیہ پروان چڑھایا گیا جس نے قومی سطح کے اتفاق رائے کو کمزور کیا اور اس طویل تنازع کو جان بوجھ کر ’ہماری جنگ نہیں‘ کہہ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

گٹھ جوڑ کا خاتمہ اور ریاست کا فیصلہ کن ردعمل

سیاسی اور عسکری مبصرین کے نزدیک کالعدم تنظیم کا یہ پریس ریلیز محض کوئی روایتی بیان نہیں ہے، بلکہ یہ ایک واضح ٹرننگ پوائنت کی حیثیت رکھتا ہے جہاں وہ نقاب مکمل طور پر اتر چکا ہے جو اب تک دہشتگردی اور سیاسی مفادات کے تاریک گٹھ جوڑ کو چھپانے کی کوشش کرتا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اب یہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری بن چکی ہے کہ وہ اس خطرناک گٹھ جوڑ کو ہمیشہ کے لیے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے انتہائی دوٹوک، سخت اور فیصلہ کن اقدامات کریں، تاکہ ملک میں مستقل امن، استحکام اور آئینی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔

Related Articles