آپریشن ردالفتنہ۔3، قلات اور گوادر میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں فتنہ الہندوستان کے 4 دہشتگرد ہلاک

آپریشن ردالفتنہ۔3، قلات اور گوادر میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں فتنہ الہندوستان کے 4 دہشتگرد ہلاک

آپریشن ردالفتنہ۔3 کے تحت سیکورٹی فورسز نے قلات میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان بھارتی پراکسی کے 4 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ گوادر کے علاقے شادی کور میں بارودی سرنگ کے دھماکے کے نتیجے میں میجر وجاہت وحید شہید ہو گئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق راولپنڈی سے 19 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے ضلع گوادر کی تحصیل پاسنی کے علاقے شادی کور اور ضلع قلات کے علاقے جھٹک آباد میں بھارت کی سرپرستی میں کام کرنے والے فتنہ الہندوستان کی متعدد پناہ گاہوں کی نشاندہی کی تھی، جو مقامی آبادی کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں نئی پلاننگ، ایڈوائزری کونسل کے فیصلوں پر عمل درآمد کا مرحلہ شروع ہوگیا 

مقامی لوگوں کے تحفظ اور علاقے کو دہشتگردوں سے پاک کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز نے ان علاقوں میں آپریشنز کا آغاز کیا۔

پہلا واقعہ 18 اکتوبر 2026 کو پیش آیا جب فورسز نے قلات کے علاقے جھٹک آباد میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن کیا۔

شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد فورسز نے دہشتگردوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور 4 دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا۔ اس کارروائی کے دوران ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کر لیا گیا۔

میجر وجاہت وحید کی شہادت

دوسرے واقعے میں سیکورٹی فورسز نے ضلع گوادر کی تحصیل پاسنی کے عام علاقے شادی کور میں صفائی اور کلیرنس آپریشنز کے لیے آپریشن شروع کیا۔ ان تمام آپریشنز میں سے ایک کے دوران، اگلی دستے کی قیادت کرنے والے 34 سالہ میجر وجاہت وحید (سکونت لاہور) کی گاڑی کو سڑک کنارے نصب بم (آئی ای ڈی) کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

وطن کے اس بہادر بیٹے اور باہمت افسر نے فرض کی راہ میں ملک و ملت کے دفاع کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور جامع شہادت نوش کی۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ علاقے میں موجود دیگر ممکنہ دہشتگردوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے سرچ اور سینٹیائزیشن آپریشنز تاحال جاری ہیں۔

 پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے بین الاقوامی اور غیر ملکی سرپرستی میں چلنے والے دہشتگرد گروہوں کی جانب سے معاشی و جغرافیائی لحاظ سے اہم علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:دہشت گرد کہیں بھی چھپیں، بچ نہیں پائیں گے، وزیرستان میں خوارج کیخلاف آپریشن میں درجنوں ٹھکانے تباہ، متعدد جہنم واصل

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے قومی ایکشن پلان کی وفاقی اپیکس کمیٹی کی منظور شدہ حکمتِ عملی اور وژن کے تحت پورے ملک میں ردِعمل دیا جا رہا ہے۔

’عزمِ استحکام‘ کے تحت بلاتعطل کارروائیاں

قومی ایکشن پلان کی وفاقی اپیکس کمیٹی کی منظوری سے شروع کیا جانے والا ’عزمِ استحکام‘ وژن اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ ملک سے فتنہ و فساد کا خاتمہ بلا تفریق کیا جائے گا۔ سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر ملکی سرپرستی اور سہولت کاری سے چلنے والی اس دہشت گردی کی لعنت کو ملک سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پوری طرح پرعزم اور متحرک ہیں۔

بیرونی عناصر کی مدد سے مقامی امن تباہ کرنے والے گروہوں کے خلاف یہ بروقت اور فیصلہ کن اقدامات نہ صرف شہریوں میں تحفظ کا احساس پیدا کرتے ہیں بلکہ ملک دشمن عناصر کو واضح پیغام دیتے ہیں۔ پاک فوج کی قیادت اور جوانوں کا یہ اتحاد اور لازوال قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملکی سرحدوں اور داخلی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور ہر قسم کے غیر ملکی آلہ کاروں کا صفایا منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

Related Articles