کرک کے شہریوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کے صاحبزادوں کے خلاف مبینہ مالی بے قاعدگیوں پر سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع پر مولانا فضل الرحمن کا اثرورسوخ ہمیشہ سے ہی رہا ہے اور مدارس ، زمینوں کے ذریعے لاکھوں روپے کے فنڈز بھی ان کی جیب میں جاتے رہے ہیں لیکن جیسے ہی یہ ان معاملات میں خردبرد سامنے آئی فضل الرحمن نے ملک کیخلاف تضحیک آمیز رویہ اپنایا ، ایسے میں کرک کے شہریوں کا کہنا ہے کہ مولانا کا اصل دکھ اور بوکھلاہٹ یہ ہے کہ اب ان کی اور ان کے بیٹوں کی سالہا سال سے چھپی کرپشن پر سے پردہ چاک ہو رہا ہے۔
مذہب کے لبادے میں کرپشن چھپانے کی کوشش ناکام
کرک کے شہریوں نے ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کے بیٹوں نے اپنے دور وزارت کے دوران بے تحاشا کرپشن کی اور ہمیشہ اس پر مذہب کا لبادہ اوڑھ کر حقیقت سامنے نہیں آنے دی، تاریخ میں پہلی بار مولانا اور ان کے خاندان کے اثر و رسوخ سے ہٹ کر ان کی کرپشن پر ہاتھ ڈالا گیا ہے، جس کے بعد ان کی پریشانی اور بوکھلاہٹ بالکل فطری ہے۔
زمینوں، مراعات اور اثاثوں کی تفصیلات عام کرنے کا مطالبہ
کرک کے شہریوں نے حکومت اور احتسابی اداروں سے مطالبہ کیا کہ فضل الرحمن اور ان کے بیٹوں نے بطور وزیر جتنی بھی زمینیں، سرکاری مراعات اور غیر قانونی مراعات و فوائد حاصل کیے ہیں، ان کا تمام ریکارڈ اور تفصیلات فی الفور قوم کے سامنے رکھی جائیں۔
🚨🚨مولانا کا دکھ یہ ہے کہ ان کی اور انکے بیٹوں کی کرپشن کا ذکرہورہا ہے، جو کرپشن مولانا اور انکے بیٹے نے وزارت کےدوران کی ان پر سے پردہ چاک کرنے کا وقت آگیا ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مولانا کی کرپشن کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے، کرک شہری https://t.co/Y9t8GyrKig
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) October 20, 2026


