کرپشن پر ہاتھ پڑا تو چیخیں نکل گئیں! کرک کے شہریوں کا فضل الرحمٰن اور بیٹوں کے احتساب کا مطالبہ

کرپشن پر ہاتھ پڑا تو چیخیں نکل گئیں! کرک کے شہریوں کا فضل الرحمٰن اور بیٹوں کے احتساب کا مطالبہ

کرک کے شہریوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کے صاحبزادوں کے خلاف مبینہ مالی بے قاعدگیوں پر سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ 

خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع  پر مولانا فضل الرحمن کا اثرورسوخ ہمیشہ سے ہی رہا ہے اور مدارس ، زمینوں کے ذریعے لاکھوں روپے کے فنڈز بھی ان کی جیب میں جاتے رہے ہیں لیکن جیسے ہی یہ ان معاملات میں خردبرد سامنے آئی فضل الرحمن نے ملک کیخلاف  تضحیک آمیز رویہ اپنایا ،  ایسے میں کرک  کے شہریوں کا کہنا ہے کہ مولانا کا اصل دکھ اور بوکھلاہٹ یہ ہے کہ اب ان کی اور ان کے بیٹوں کی سالہا سال سے چھپی کرپشن پر سے پردہ چاک ہو رہا ہے۔

مذہب کے لبادے میں کرپشن چھپانے کی کوشش ناکام

کرک کے شہریوں  نے ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کے بیٹوں نے اپنے دور وزارت کے دوران بے تحاشا کرپشن کی اور ہمیشہ اس پر مذہب کا لبادہ اوڑھ کر حقیقت سامنے نہیں آنے دی،  تاریخ میں پہلی بار مولانا اور ان کے خاندان کے اثر و رسوخ سے ہٹ کر ان کی کرپشن  پر ہاتھ ڈالا گیا ہے، جس کے بعد ان کی پریشانی اور بوکھلاہٹ بالکل فطری  ہے۔

زمینوں، مراعات اور اثاثوں کی تفصیلات عام کرنے کا مطالبہ

کرک کے شہریوں نے حکومت اور احتسابی اداروں سے مطالبہ کیا کہ فضل الرحمن  اور ان کے بیٹوں نے بطور وزیر جتنی بھی زمینیں، سرکاری مراعات اور غیر قانونی مراعات و فوائد حاصل کیے ہیں، ان کا تمام ریکارڈ اور تفصیلات فی الفور قوم کے سامنے رکھی جائیں۔

شہریوں نے واضح کیا کہ دینِ  اور سیاست کا نام استعمال کر کے اپنے اور خاندان کے لیے مال جمع کرنے والوں سے اب ایک ایک روپے کا حساب لیا جائے اور ان کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی ایکشن لیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : سیاسی یتیمی اور اقتدار کی ہوس نے فضل الرحمن کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا، پاک افواج کیخلاف ہرزہ سرائی برداشت نہیں ! سرگودھا کے شہریوں کا شدید ردِعمل

  دہائیوں سے دین اور سیاست کو ذاتی و خاندانی مفادات کی ڈھال بنانے والوں کا اب مکمل محاسبہ ہونا چاہیے ، کرک کے شہریوں نے صاف واضح کر دیا ہے کہ اب محض بیان بازی یا مذہب کا کارڈ استعمال کر کے کرپشن پر پردہ ڈالنے کی کوششیں کام نہیں آئیں گی ۔

editor

Related Articles