نئے صوبوں کے قیام پر کانفرنس ،مصطفی کمال نے مخالفین کی دھجیاں اڑا دیں

نئے صوبوں کے قیام پر کانفرنس ،مصطفی کمال نے مخالفین کی دھجیاں اڑا دیں

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملک میں چھوٹے انتظامی یونٹس اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ناگزیر ہے، کیونکہ بڑے صوبوں میں عام شہری کے لیے وزیرِاعلیٰ تک پہنچنا اور اپنے مسائل حل کرانا مشکل ہوتا ہے۔ 70 سال سے جاری نظام اب مزید نہیں چل سکتا اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی ضروری ہے۔

پاکستان کی انتظامی تنظیمِ نو اور نئے صوبوں کے قیام کے موضوع پر منعقدہ قومی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جب انتظامی یونٹس چھوٹے ہوں گے تو عوام کے منتخب نمائندے ان کی دسترس میں ہوں گے اور وہ اپنے مسائل حل کرانے کے لیے ان تک آسانی سے پہنچ سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان غریب ملک نہیں بلکہ اصل مسئلہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور انہیں درست انداز میں استعمال کرنے کا ہے۔ وفاق اپنا کام کر رہا ہے، لیکن ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچانے اور مقامی سطح پر مسائل حل کرنے کے لیے مؤثر نظام کی ضرورت ہے۔

بڑے صوبے، عوامی مسائل اور اختیارات کی منتقلی

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ صوبوں میں پانی، تعلیم اور روزگار سمیت بنیادی مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں ملک میں دو کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی نہ ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ بددلی کا شکار ہو رہے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جب نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور ضروری سہولیات میسر نہیں آتیں تو ان میں ریاستی نظام سے مایوسی بڑھ سکتی ہے اور وہ دشمن عناصر کے ہاتھوں استعمال ہونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عوام کو ایسے انتظامی نظام کی ضرورت ہے جس میں ان کے مسائل کے حل کے لیے واضح ذمہ داریاں متعین ہوں اور منتخب نمائندے براہِ راست شہریوں کے سامنے جواب دہ ہوں۔

وسائل کی تقسیم اور بلدیاتی نظام

مصطفیٰ کمال نے وسائل کی تقسیم اور ان کے استعمال کے طریقۂ کار پر بھی سوالات اٹھائے ،انہوں نے کہا کہ صوبائی بجٹ مختص ہونے کے بعد اسے مقامی سطح تک مؤثر انداز میں منتقل کرنے اور عوامی ضروریات کے مطابق استعمال کرنے کا ایسا نظام ہونا چاہیے جس سے عام شہری کو حقیقی فائدہ پہنچے۔

انہوں نے چھوٹے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے قیام کے ساتھ بااختیار بلدیاتی نظام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اختیارات کی مرکزیت سے عوام کا حکمرانوں تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس مقامی سطح پر اختیارات اور وسائل کی فراہمی سے عوام اپنے نمائندوں کا احتساب بھی کر سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں تبدیل کرنے کا اختیار بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

نئے صوبوں کے قیام پر قومی مباحثہ

قومی مباحثے میں نئے صوبوں کے قیام کے سیاسی، انتظامی اور مالیاتی پہلوؤں کے علاوہ مؤثر طرزِ حکمرانی، انتظامی اکائیوں کو بااختیار بنانے اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پر تبادلۂ خیال کیا گیا،شرکا نے پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے، عوامی ضروریات کے مطابق اصلاحات متعارف کرانے، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور شہریوں کو بہتر خدمات فراہم کرنے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا۔

مباحثے کا بنیادی مقصد نئے صوبوں کے قیام سمیت مختلف انتظامی اصلاحات کے ذریعے حکومتی نظام کو مؤثر بنانا اور عوامی مسائل کے حل کے لیے قابلِ عمل تجاویز پر غور کرنا تھا۔ مصطفیٰ کمال کے خطاب میں چھوٹے انتظامی یونٹس، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوام کو بااختیار بنانے کو بہتر حکمرانی کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

editor

Related Articles