سونا، تانبا اور نایاب معدنیات ریت نہیں، تلاش اور پیداوار میں دہائیاں لگ جاتی ہیں، مائننگ ایکسپرٹ

سونا، تانبا اور نایاب معدنیات ریت نہیں، تلاش اور پیداوار میں دہائیاں لگ جاتی ہیں، مائننگ ایکسپرٹ

مائننگ ایکسپرٹ ڈاکٹر محمد رحیم اعوان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے مائننگ ریگولیشنز کے تحت معدنیات کی تلاش اور کان کنی کے لائسنس کے حصول کے لیے درخواست دینے والے افراد کے لیے تجربے کی کوئی شرط نہیں رکھی گئی، جس کے باعث ہزاروں کی تعداد میں ایکسپلوریشن اور مائننگ لائسنس جاری ہوئے۔

آزاد پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد رحیم اعوان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کا صوبائی قانون کسی بھی شخص کو مائننگ ایکسپلوریشن لائسنس یا مائننگ لائسنس کے لیے درخواست دینے کی اجازت دیتا ہے، جبکہ اس کے لیے کسی قسم کا تجربہ درکار نہیں۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لائسنس جاری ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ 4 ہزار لائسنس جاری کیے گئے، بلکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ان میں سے کتنے فعال ہیں۔ اگر کوئی شخص تجربہ اور اہلیت رکھنے کے باوجود کسی علاقے میں معدنیات کی تلاش کے لیے لائسنس حاصل نہیں کر پاتا اور اس سے پہلے کوئی غیر تجربہ کار شخص اس جگہ پر قبضہ کر لیتا ہے تو اس طرح اہل افراد کا جائز حق متاثر ہوتا ہے۔

ڈاکٹر محمد رحیم اعوان کے مطابق اگر لائسنس حاصل کرنے والا شخص کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور علاقے میں معدنیات کی تلاش یا کان کنی شروع نہیں کرتا تو اس سے وہ علاقہ غیر فعال رہتا ہے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ لائسنس پر کام نہ ہونے کی وجہ نااہلی بھی ہو سکتی ہے اور بعض معروضی حالات بھی اس میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

مائننگ ایکسپرٹ نے دھاتی معدنیات، خصوصاً سونے اور تانبے کی تلاش کے لیے درکار وقت کی مثال دیتے ہوئے ریکوڈک منصوبے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریکوڈک کا ابتدائی سروے 1960 کی دہائی میں شروع ہوا، جبکہ 1993 تک اس کا ابتدائی ارضیاتی سروے مکمل ہوا، جو پاکستان نے کیا تھا۔

ان کے مطابق 1993 میں بین الاقوامی ادارے بی ایچ پی نے منصوبے پر کام شروع کیا۔ بعد ازاں 2000 میں اینٹوفاگسٹا اس منصوبے میں شامل ہوئی اور اس کے حصص حاصل کیے۔ 2006 میں اینٹوفاگسٹا نے اپنے حصص تتھیان کاپر کارپوریشن اور بارک گولڈ کو دے دیے۔

انہوں نے کہا کہ ریکوڈک جیسے منصوبے پر عالمی سطح کی بڑی کمپنیوں نے کام کیا، لیکن 1993 میں شروع ہونے والی معدنیات کی تلاش کے بعد بھی 33 سال گزرنے کے باوجود منصوبہ پیداوار کے مرحلے تک نہیں پہنچ سکا۔

خیبر پختونخوا میں معدنیات کی ملکیت اور ان کے حصول سے متعلق سیاسی بیانات پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد رحیم اعوان نے کہا کہ ریت جیسی معمولی معدنیات اور نایاب زمینی عناصر یا سونے اور تانبے جیسی قیمتی دھاتی معدنیات کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ریت لے جانے کی بات کرے تو اسے ایک الگ معاملہ سمجھا جا سکتا ہے، لیکن نایاب زمینی عناصر اور قیمتی دھاتی معدنیات کی تلاش اور حصول ایک مختلف معاملہ ہے، جس کے لیے طویل وقت اور متعلقہ مہارت درکار ہوتی ہے۔

Related Articles