شہباز گل دو نمبر آدمی ہے! شوکت یوسف زئی نے آخر کار کروڑوں پاکستانیوں کی دل کی آواز بول دی

شہباز گل دو نمبر آدمی ہے! شوکت یوسف زئی نے آخر کار کروڑوں پاکستانیوں کی دل کی آواز بول دی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اندرونی صفوں میں جاری اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئے ہیں ، پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے اپنی ہی پارٹی کے شہباز گل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے. 

“شوکت یوسفزئی نے کروڑوں دلوں کی آواز بول دی

نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے  پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما شوکت یوسفزئی نے بڑبولے شہباز گل پر تنقید کرتے ہوئے انہیں “دو نمبر آدمی” قرار دے دیا،  ان کاکہنا تھا کہ شہباز گل سب کچھ ریٹنگ کیلئے کرتا ہے، وہ اپنی کارکردگی بتائے جو بھی اس نے کیا۔

ان کاکہنا تھا کہ سوشل میڈیا اکاونٹ رکھنا سب کا حق ہے لیکن پارٹی کی نمائندگی کرنا ہی سب کیلئے ضروری ہے  ، جو لوگ پارٹی کا غلط امیج دے رہے ہیں ہمیں ان کی ضرورت نہیں ۔

 قاسم سوری ، شہزاد اکبر کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کاکہنا تھا کہ یہ شہباز گل  دونمبر  اور شہزاد اکبر غلیظ آدمی ہے ، جو سوشل میڈیا پر بیٹھ کرغلط باتیں کرتا ہے ، میں تو ڈس اون کرتا ہوں ہم نے کہا ہے کہ کوئی کہیں بھی بیٹھا ہو جو پارٹی کی لائن ہے اس کو فالو کرنا چاہیے ۔

 شوکت یوسفزئی کا یہ بیان کوئی ڈھکا چھپا سچ نہیں تھا بلکہ انہوں نے  ترجمانی کی ہے ان کروڑوں پاکستانیوں کی اور جو طویل عرصے سے  شہباز گل جیسے غیر سنجیدہ اور متنازع کرداروں پر نالاں تھے ۔

پارٹی کے اندر  نفاق کا پردہ چاک

شوکت یوسفزئی کے اس کھلے الفاظ میں اظہارِ ناراضی نے ثابت کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی کا سیاسی ڈھانچہ اس وقت شدید اندرونی خلفشار کا شکار ہے ، جو جبکہ دوسری طرف وہ طبقہ ہے جو صرف سوشل میڈیا پر بیان بازی اور محاذ آرائی کی سیاست پر انحصار کرتا ہے لیکن پی ٹی آئی کے پاکستان میں بیٹھے اپنے لوگ ان سے سخت نالاں ہیں ۔

صرف ریٹنگ کے بھوکے اور موقع پرست کردار

شوکت یوسفزئی کا یہ بیان دراصل پاکستان بھر کے ان کروڑوں دلوں کی دبی ہوئی آواز ہے جو اس بات پر نالاں ہیں  کس طرح چند مفاد پرستوں نے پارٹی کو ذاتی پروپیگنڈے اور ریٹنگ کا کھلونا بنا رکھا ہے۔

اصل کارکردگی صفر، سوشل میڈیا کا شور

شوکت یوسفزئی نے اس بات کی بھی درست  نشاندہی کی کہ شہباز گل جیسے لوگ زمینی محنت یا عوامی جدوجہد کے بجائے صرف سستی شہرت، ویوز اور سوشل میڈیا کی ریٹنگ کے لیے سیاست کرتے ہیں یہ لوگ محفوظ فاصلوں پر بیٹھ کر ٹوئٹر اور یوٹیوب پر آگ لگاتے ہیں، ان کے زہریلے اور غیر سنجیدہ رویوں نے ہمیشہ پارٹی کے سیاسی وقار کو نقصان پہنچایا ہے۔

شوکت یوسفزئی کے اس کھلے اور سخت ترین بیان نے پارٹی کے اندر پنپنے والے اس غصے کو بے نقاب کر دیا ہے جو طویل عرصے سے دبایا جا رہا تھا ،  وہ لوگ  یہ مانتے ہیں کہ شہباز گل جیسے “موقع پرست” اور پیرا شوٹ کے ذریعے اوپر آنے والے کرداروں نے سخت بیانیے اور غیر سنجیدہ رویے سے پارٹی کے سیاسی وقار کو خاک میں ملایا۔

پارٹی پر گرفت کا فقدان اور تضاد کی سیاست

 یہ گفتگو  پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کی زوال پذیر انتظامی گرفت کو ظاہر کرتا ہے ، ایک طرف وہ سینیئر رہنما ہیں جنہوں نے دہائیوں سے پارٹی کی بنیادوں میں خون پسینہ بہایا، جبکہ دوسری طرف وہ ٹولہ ہے جس کا پورا عمل صرف ٹوئٹر اور یوٹیوب ویڈیوز تک محدود رہا ہے، یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جب نفاق اور مفاد پرستی حد سے بڑھ جائے، تو گھر کے اپنے ہی ستون سچ بولنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ،  کروڑوں پاکستانی بھی آج یہی کہہ رہے ہیں کہ شوکت یوسفزئی نے وہ حرفِ آخر بول دیا ہے جو ہر ذی شعور انسان کی زبان پر تھا؛ اور یہی اندرونی تضادات اب اس جماعت کے زوال کا سب سے بڑا پروانہ بن چکے ہیں۔

شوکت یوسفزئی کی طرف سے شہباز گل اور شہزاد اکبر جیسے چہروں کو سرعام ڈس اون (Disown) کرنا اور یہ کہنا کہ “ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں جو پارٹی کا غلط امیج دیں”، دراصل مرکزی قیادت کی زوال پذیر انتظامی گرفت پر ایک شدید طمانچہ ہے۔

گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے 

 یہ تنقید کسی باہر کے سیاسی مخالف (جیسے ن لیگ یا پیپلز پارٹی) کی طرف سے نہیں آ رہی، بلکہ پارٹی کے اپنے ہی گھر کے اندر سے اٹھنے والی آواز ہے۔ جب پارٹی کا ایک پرانا اور سینئر وزیر اپنے ہی ساتھیوں کو “دو نمبر” کہے، تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اندرونی زہر اب چھپائے نہیں چھپ رہا۔

 حقیقت یہ ہے کہ یہ سنگین چارج شیٹ کسی سیاسی مخالف نے نہیں، بلکہ خود پی ٹی آئی کے اپنے سینئر رہنما اور دیرینہ ساتھی شوکت یوسفزئی نے پیش کی ہے ،  انہوں نے شہباز گل اور شہزاد اکبر جیسے کرداروں کو ‘دو نمبر’ اور ‘ریٹنگ کے بھوکے’ قرار دے کر دراصل ان کروڑوں پاکستانیوں اور ان ورکرز کے دل کی آواز بول دی ہے جو طویل عرصے سے ان کی بورڈ واریئرز اور موقع پرست ٹولے کے ہاتھوں یرغمال تھے۔

آج اگر پی ٹی آئی نے مفاد پرست، نعرے باز عناصر سے اپنی صفیں پاک نہ کیں، تو اس کا اصل زوال کسی بیرونی طاقت کے وار سے نہیں، بلکہ اس کے اندرونی تضادات اور تکبر کے گڑھے سے ہی لکھا جائے گا۔

editor

Related Articles