آکٹوپس سمندر کی ان حیرت انگیز مخلوقات میں شامل ہیں جن کی ذہانت، جسمانی ساخت اور غیر معمولی صلاحیتیں سائنس دانوں کو آج بھی حیران کرتی ہیں۔ اپنے رنگ اور جلد کی ساخت فوری طور پر بدلنے، پیچیدہ مسائل حل کرنے اور اپنے آر این اے میں تبدیلیاں کرنے کی صلاحیت کے باعث یہ سمندری جاندار اکثر کسی دوسری دنیا کی مخلوق جیسے محسوس ہوتے ہیں۔
آکٹوپس کی غیر معمولی خصوصیات نے اس بارے میں دلچسپ سوالات کو جنم دیا ہے کہ آیا ان کی ارتقائی تاریخ میں کوئی ایسا پہلو موجود ہے جسے سائنس ابھی مکمل طور پر نہیں سمجھ سکی۔
2018 میں سائنسی جریدے پروگریس ان بائیو فزکس اینڈ مولیکیور بائیولوجی میں شائع ہونے والے ایک متنازع مقالے میں 33 محققین کے ایک گروپ نے یہ مفروضہ پیش کیا تھا کہ آکٹوپس سمیت بعض جانداروں کی پیچیدہ خصوصیات کی وضاحت کے لیے خلا سے زندگی کے بنیادی اجزا یا منجمد حیاتیاتی مواد کے زمین تک پہنچنے کے امکان پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ یہ خیال نظریۂ پین اسپرمیہ سے جڑا ہے، جس کے مطابق زندگی کے اجزا یا جرثومے کائنات میں ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل ہو سکتے ہیں۔
تاہم، یہ ایک متنازع مفروضہ ہے، ثابت شدہ سائنسی حقیقت نہیں۔ اس بات کا کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں کہ آکٹوپس زمین سے باہر کسی دوسرے سیارے پر پیدا ہوئے تھے۔
سائنس دانوں کے مطابق آکٹوپس کی غیر معمولی صلاحیتوں کو سمجھنے کے لیے ان کے جینیاتی نظام اور ارتقا کا مطالعہ اہم ہے۔ ان کا تعلق مولسک نامی جانداروں کے گروہ سے ہے، جس میں گھونگھے اور سیپ بھی شامل ہیں۔ ان کی ایک نمایاں خصوصیت آر این اے ایڈیٹنگ ہے، جس کے ذریعے خلیے بعض جینیاتی پیغامات میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔
آکٹوپس کا اعصابی نظام بھی غیر معمولی ہے۔ ان کے اعصابی خلیوں کی بڑی تعداد بازوؤں میں موجود ہوتی ہے، جس سے ان کے بازو مختلف حرکات اور ماحول کے ردعمل میں نمایاں خودمختاری دکھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ اپنی جلد کے رنگ اور ساخت میں تیزی سے تبدیلی لا کر ماحول میں چھپنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ تمام خصوصیات آکٹوپس کو سمندر کے ذہین اور منفرد جانداروں میں شامل کرتی ہیں، لیکن ان کی حیرت انگیز حیاتیات کو زمین سے باہر کی اصل کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ارتقا نے زمین پر ہی ایسی غیر معمولی ذہانت اور صلاحیتوں کو کیسے جنم دیا۔