مسلم امہ کا دفاعی اتحاد مضبوط، مکہ معاہدہ بیرونی جارحیت کے خلاف مشترکہ ڈھال بن گی

مسلم امہ کا دفاعی اتحاد مضبوط، مکہ معاہدہ بیرونی جارحیت کے خلاف مشترکہ ڈھال بن گی

مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ (MJDA) کو مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ غیر یقینی صورتحال میں علاقائی امن، استحکام اور اجتماعی دفاع کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ معاہدے کے منظرِ عام پر آنے والے 16 آرٹیکلز کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی دفعات پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی سرکاری پریس ریلیزز، نائب وزیراعظم کے بیانات اور پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر کے مؤقف سے ہم آہنگ ہیں۔

اس دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے باہمی تعاون اور اجتماعی دفاع کے ذریعے بیرونی جارحیت کی روک تھام، اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کی دفاعی صلاحیت اور اجتماعی بازدارندگی کو مضبوط بنانا ہے تاکہ تشدد اور انتشار پھیلانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

معاہدے کے حامیوں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اور یمن سے متعلق تنازعات سمیت مختلف علاقائی عوامل نے سلامتی کی صورتحال کو غیر یقینی بنا رکھا ہے۔ ایسے حالات میں تین اہم مسلم ممالک کے درمیان دفاعی تعاون مسلم امہ کے اتحاد کو مضبوط بنانے اور خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

معاہدے کو بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تناظر میں بھی پیش کیا گیا ہے، جو رکن ممالک کے انفرادی اور اجتماعی دفاع کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔ اس مؤقف کے مطابق دفاعی تعاون کا مقصد جارحیت کا راستہ روکنا اور تنازعات کو مزید پھیلنے سے بچانا ہے، نہ کہ کسی ملک کے خلاف محاذ آرائی کو ہوا دینا۔

معاہدے کی قانونی حیثیت کے حوالے سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دستخط کنندہ ممالک اپنے اپنے آئینی تقاضوں کے مطابق اس کی منظوری اور توثیق کریں گے۔ فراہم کردہ معلومات میں پاکستان کے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 90 کے تحت منظوری اور ترکیہ کی جانب سے اپنے قانونی تقاضوں کے مطابق معاہدہ پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ تاہم ان قانونی مراحل کی سرکاری دستاویزی تصدیق ضروری ہے۔

دفاعی معاہدے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس کا دائرہ کار کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ تینوں شریک ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عوام کے تحفظ سے متعلق ہے۔ ان کے مطابق باہمی اعتماد، مشترکہ حکمت عملی اور دفاعی صلاحیتوں میں تعاون کے ذریعے خطے میں امن کے امکانات کو تقویت دی جا سکتی ہے۔ یہ طرزِ عمل تنازعات کے پرامن حل، علاقائی خوشحالی اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے اصولوں سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔

اس معاہدے کے حوالے سے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔ معاہدے کے حامیوں کے مطابق پاکستان کی عسکری قیادت اتحادی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کو فروغ دینے اور علاقائی امن کے قیام کے لیے کوششیں کر رہی ہے، جن کا مقصد عالمی سلامتی اور مشترکہ اقتصادی مفادات کا تحفظ بھی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کی جانب سے مکہ دفاعی معاہدے پر تنقید اور اسے مبینہ طور پر ’’دشمن گٹھ جوڑ‘‘ قرار دیے جانے کے حوالے سے مؤقف سامنے آیا ہے کہ یہ ردعمل خطے میں نئے دفاعی اتحاد کی اسٹریٹجک اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔ معاہدے کے حامیوں کے نزدیک تینوں ممالک کا دفاعی تعاون اس امر کا اظہار ہے کہ علاقائی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اور اجتماعی دفاعی صلاحیت کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مسلم امہ کے اتحاد کو نئی تقویت، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ دفاعی تعاون کے نئے دور کا آغاز

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اسرائیل سے متعلق مؤقف اور فلسطین سمیت علاقائی تنازعات پر ان کی پالیسیوں کو بھی اس اتحاد کے سیاسی تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم تینوں ممالک کے مؤقف میں موجود مشترکہ نکات اور اختلافات کا جائزہ ان کے سرکاری بیانات اور عملی سفارتی اقدامات کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔

مجموعی طور پر مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کو اس کے حامی مسلم ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، باہمی یکجہتی اور اجتماعی بازدارندگی کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر معاہدے کو آئینی تقاضوں، بین الاقوامی قانون اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں کے مطابق آگے بڑھایا گیا تو یہ نہ صرف شریک ممالک کے دفاعی مفادات کے تحفظ بلکہ وسیع تر علاقائی استحکام کے لیے بھی مثبت نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles