مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی خطرات اور عالمی طاقتوں کی بدلتی ہوئی حکمت عملی کے تناظر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے دفاعی منظرنامے میں اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ تینوں ممالک کی جانب سے اجتماعی دفاعی وعدوں پر عملی پیش رفت اور معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے اقدامات نے اس شراکت داری کو نئی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کرنے کا اصول تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد بیرونی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاعی صلاحیت مضبوط بنانا، رکن ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔ معاہدے میں دفاعی تعاون، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، دفاعی صنعت، رسد اور مشترکہ تربیت جیسے شعبوں میں تعاون کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔
موجودہ صورتحال میں اس معاہدے کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب سعودی عرب کو حوثی حملوں اور دیگر سکیورٹی خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔ 5 اکتوبر کو ریاض میں ہونے والے تینوں ممالک کے ہنگامی اجلاس میں اجتماعی دفاعی وعدوں پر فوری عمل درآمد اور سعودی عرب میں متفقہ دفاعی صلاحیتوں اور فوجی وسائل کی تیز رفتار تعیناتی کے لیے ضروری اقدامات کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ مشترکہ اعلامیے میں سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔
ترکیہ کی جانب سے 20 اکتوبر کو معاہدے کو پارلیمانی توثیق کے لیے پیش کرنا بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس اقدام سے معاہدے کو قانونی اور ادارہ جاتی بنیادوں پر مزید مضبوط بنانے کی کوشش سامنے آئی ہے۔ تاہم اس کی مکمل عملی شکل، تینوں ممالک کی ذمہ داریوں اور ممکنہ فوجی تعاون کی حدود کا تعین متعلقہ قانونی تقاضوں اور باہمی انتظامات کے مطابق ہوگا۔
پاکستان کے لیے یہ معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ دفاعی تعلقات اور ترکیہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے عسکری و تکنیکی تعاون کو ایک مشترکہ فریم ورک میں آگے بڑھانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کا دفاعی تجربہ، ترکیہ کی دفاعی صنعت میں پیش رفت اور سعودی عرب کے وسائل تینوں ممالک کے درمیان تعاون کو وسعت دینے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مؤثر بنانے اور دفاعی صنعت میں تعاون بڑھانے کے لیے ادارہ جاتی انتظامات بھی شروع کیے ہیں۔ 31 اگست کو استنبول میں ہونے والے اجلاس میں سعودی عرب میں معاہدے کا سیکریٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کو تین سال کے لیے پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا۔ اس پیش رفت سے پاکستان کو معاہدے کے انتظامی اور رابطہ کاری کے نظام میں اہم کردار حاصل ہوا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی، یمن کی صورتحال، بحیرۂ احمر میں بحری سلامتی اور خطے میں مختلف مسلح گروہوں کی سرگرمیوں نے علاقائی دفاعی تعاون کی ضرورت کو نمایاں کیا ہے۔ ایسے ماحول میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان مشاورت اور مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔ تاہم معاہدے کو کسی مخصوص ملک کے خلاف اتحاد قرار دینے کے بجائے اس کے اعلان کردہ دفاعی مقاصد، عملی اقدامات اور متعلقہ ممالک کے سرکاری مؤقف کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے۔
پاکستانی قیادت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ دفاعی نوعیت کا حامل ہے، کسی ملک کے خلاف نہیں اور اس کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت اور علاقائی استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔ پاکستان کا مؤقف تنازعات کے پُرامن حل، خودمختاری کے احترام اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر مبنی ہے۔
موجودہ غیر یقینی صورتحال میں اس معاہدے کو خطے کے دفاعی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کی اصل اہمیت اس بات میں ہوگی کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اپنے مشترکہ عزم کو کس حد تک عملی تعاون، مؤثر دفاعی تیاری اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں تبدیل کرتے ہیں۔ پاکستان کے لیے اس شراکت داری کا حصہ ہونا ایک اہم تزویراتی موقع ہے، جبکہ اس کی کامیابی کا انحصار تینوں ممالک کے درمیان اعتماد، مستقل رابطہ کاری اور معاہدے پر مؤثر عمل درآمد پر ہوگا۔