وفاق کے خلاف سخت تقاریر اور نوجوانوں کو تصادم پر اکسانے کے الزامات کا سامنا کرنے والے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے بارے میں قریبی خاندانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ روپوش ہونے کے بعد سرحد عبور کرکے افغانستان فرار ہوگئے ہیں۔ تاہم ان کے افغانستان پہنچنے کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
اقبال آفریدی کی مبینہ روپوشی نے ان کے سیاسی کردار اور طرزِ سیاست پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ جو رہنما سیاسی جلسوں اور تقاریر میں وفاق کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے، نوجوانوں کو لڑنے، کٹنے اور مرنے کے لیے تیار رہنے کا پیغام دیتے رہے، ان کی اپنی موجودگی کے بارے میں واضح معلومات سامنے نہ آنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
سیاسی مخالفین نے اس صورتِ حال پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارکنوں کو خطرات میں دھکیلنے اور تصادم کی سیاست کو ہوا دینے والے رہنماؤں کو خود بھی اپنے بیانات اور سیاسی فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ ناقدین کے مطابق اگر افغانستان فرار ہونے کی اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ اس طرزِ سیاست پر سنجیدہ سوال ہوگا جس میں کارکنوں سے قربانیاں مانگی جاتی ہیں، مگر قیادت کی اپنی صورتِ حال غیر واضح رہتی ہے۔
اقبال آفریدی کے حوالے سے یہ بھی اہم ہے کہ ستمبر 2026 میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے نومبر 26 کے احتجاج سے متعلق مقدمے میں ان سمیت 24 پی ٹی آئی ارکانِ اسمبلی کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ عدالتی کارروائی افغانستان فرار ہونے کے دعوے کی تصدیق نہیں کرتی، تاہم ان کے بیرونِ ملک جانے کی اطلاعات کی جانچ کو اہم بناتی ہے۔
اقبال آفریدی کی موجودہ جگہ، سرحد عبور کرنے کے مبینہ واقعے اور افغانستان پہنچنے کے دعوے پر متعلقہ حکام کی تصدیق سامنے آنا باقی ہے۔ ان کا مؤقف بھی دستیاب نہیں۔ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو ان کی تقاریر اور عملی طرزِ عمل کے درمیان فرق پر سیاسی بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔