پی ٹی آئی دور کی بدامنی اور منشیات کے پھیلاؤ سے پریشان عوام نئے انتظامی سیٹ اپ سے پُرامید، بنوں، ٹانک، لکی مروت اور ڈی آئی خان میں منشیات فروشوں کیخلاف کارروائی کیلئے بینرز لگ گئے

پی ٹی آئی دور کی بدامنی اور منشیات کے پھیلاؤ سے پریشان عوام نئے انتظامی سیٹ اپ سے پُرامید، بنوں، ٹانک، لکی مروت اور ڈی آئی خان میں منشیات فروشوں کیخلاف کارروائی کیلئے بینرز لگ گئے

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد جنوبی اضلاع میں امن کی بحالی، منشیات کے خلاف کارروائی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے حوالے سے عوام نے نئے انتظامی سیٹ اپ سے امیدیں وابستہ کر لی ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں پائیدار امن قائم کرنے کے ساتھ منشیات فروشوں، اسمگلروں اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی کی جائے تاکہ نوجوان نسل کو نشے اور جرائم سے محفوظ بنایا جا سکے۔

جنوبی خیبرپختونخوا کے شہریوں کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت اور بنوں سمیت مختلف علاقوں میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ شہریوں نے سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر سرعام منشیات کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورت حال سے نہ صرف عوامی مقامات کا ماحول متاثر ہوتا ہے بلکہ نوجوان نسل کے مستقبل کے حوالے سے بھی سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ادوار میں منشیات کے مسئلے پر مؤثر قابو پانے کے لیے مزید سنجیدہ اقدامات کی ضرورت تھی۔ ان کے مطابق اب نئے انتظامی سیٹ اپ سے توقعات وابستہ ہیں کہ منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے، منشیات فروشوں کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرنے اور نوجوانوں کو نشے کی لعنت سے بچانے کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔

عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ منشیات کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی محض وقتی مہم تک محدود نہ رہے بلکہ مستقل بنیادوں پر جاری رکھی جائے۔ غیر قانونی اسلحے کی روک تھام اور اسمگلنگ کے خلاف اقدامات کو بھی امن کے قیام کی حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے تاکہ شہری خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:فورسز کے ساتھ خلوص سے کھڑی نہ ہونے والی سیاسی جماعت مائنس ہو جائے گی ، رانا ثنا اللہ کا دوٹوک اعلان

دوسری جانب شہریوں نے گورنر راج کے نفاذ کے بعد روزانہ کے دھرنوں، ریلیوں اور احتجاجی سرگرمیوں میں کمی اور کاروباری سرگرمیوں کی بحالی کو مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معمولاتِ زندگی اور کاروبار کی بحالی سے عوام کو ریلیف ملا ہے، تاہم اس بہتری کو مستقل بنانے کے لیے امن و امان کے ساتھ معاشی مسائل پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔

شہریوں نے نئے کونسلرز سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت اور بنوں میں امن کی بحالی، عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق مقامی نمائندے عوام اور انتظامیہ کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن کر علاقے کے مسائل اجاگر کر سکتے ہیں اور حکومتی اقدامات کی مؤثر نگرانی میں مدد دے سکتے ہیں۔

عوام نے مہنگائی پر قابو پانے، روزگار کے مواقع بڑھانے اور کاروباری طبقے کو سہولتیں فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ شہریوں کے مطابق احتجاجی سرگرمیوں میں کمی اور کاروبار کی بحالی کے ساتھ اب ضروری ہے کہ عام آدمی کو مہنگائی سے ریلیف ملے اور امن کے ثمرات روزگار، معاشی بہتری اور بہتر طرزِ زندگی کی صورت میں سامنے آئیں۔

جنوبی خیبرپختونخوا کے شہریوں کی توقعات اب نئے انتظامی سیٹ اپ سے وابستہ ہیں۔ عوام چاہتے ہیں کہ امن و امان کی بہتری، منشیات کے خاتمے اور معاشی مسائل کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات مستقل بنیادوں پر جاری رہیں تاکہ علاقے میں پائیدار امن اور ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles