امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک اور فوجی آپریشن کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم کر سکتا ہے تاہم سوال یہ ہے کہ جنگ ختم کی جائے یا ایران کو مزید کمزور ہونے دیا جائے۔
فلوریڈا میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جاری ہے اور امریکہ وہاں سے اپنی مرضی کے مطابق تیل نکال رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو معاشی مشکلات، مہنگائی اور مالی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ ایران کے معاملے کے بعد کیوبا سے بھی نمٹا جائے گا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے محصولات کی دھمکی دے کر آٹھ میں سے پانچ جنگیں رکوائیں، لیکن اس کے باوجود انہیں نوبیل امن انعام نہیں دیا گیا۔
ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دونوں ممالک کو خبردار کیا تھا کہ اگر جنگ نہ روکی گئی تو بھاری تجارتی محصولات عائد کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق پاک بھارت جنگ کے دوران 11 طیارے گرائے گئے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جنگیں رکوانا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم اس عمل میں اقوام متحدہ نے کوئی مدد نہیں کی۔
ٹرمپ کے ان بیانات میں ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کے امکان، کیوبا سے نمٹنے کے اعلان اور پاک بھارت جنگ رکوانے کے دعوے نے خطے اور عالمی سیاست کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔