نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے استنبول میں سعودی ہم منصب سے ملاقات کے دوران سعودی عرب کی خودمختاری کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے دوطرفہ دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے استنبول میں منعقدہ ’آر فور‘ وزرای اجلاس کے سائیڈ لائنز پر سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان آل سعود سے ایک اہم اور نتیجہ خیز ملاقات کی۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب حکومت اور سعودی عرب کے درمیان غذائی برآمدات بڑے تعاون پر اتفاق، ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کا ہدف مقرر
اس ملاقات کے دوران دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان صدیوں پرانے، گہرے اور تاریخی برادرانہ تعلقات کو بھرپور طریقے سے اجاگر کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان مملکتِ سعودی عرب کی ارضی سالمیت، خودمختاری اور خطے میں اس کے مقام و مرتبے کی مکمل حمایت کرتا ہے اور کسی بھی صورتحال میں اسلام آباد ریاض کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
اسٹریٹجک دفاعی تعاون اور عسکری معاہدوں کی اہمیت
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ عسکری اور اسٹرٹیجک فریم ورک کا جائزہ لیتے ہوئے ’اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے‘ اور ’مکہ دفاعی اتحاد‘ کی اہمیت کو دوٹوک انداز میں اجاگر کیا۔
فریقین کا ماننا تھا کہ یہ عسکری معاہدے نہ صرف دونوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مربوط بناتے ہیں بلکہ خطے میں درپیش سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک فول پروف دفاعی حصار فراہم کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
اس کے علاوہ دونوں وزرائے خارجہ نے دفاعی تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے اور تمام تر متعلقہ سطحوں پر باقاعدہ اور مسلسل مشاورت کا عمل جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
پاک سعودی عرب تعلقات
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض روایتی سفارتی دائرہ کار تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ عقیدے، ثقافت، با اعتماد دوستی اور مضبوط دفاعی اشتراک کی طویل تاریخ پر مبنی ہیں۔
قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک دونوں ممالک نے ہر کڑے وقت میں ایک دوسرے کا دست و بازو بن کر یہ ثابت کیا ہے کہ ان کا باہمی رشتہ وقت کی ہر آزمائش پر پورا اترتا ہے۔
دفاعی میدان میں تربیت، عسکری مشقوں اور اسٹریٹجک معاہدوں کے ذریعے دونوں ممالک نے ہمیشہ علاقائی طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو حالیہ برسوں میں معاشی اور سفارتی سطح پر مزید گہرا ہو چکا ہے۔
علاقائی امن، استحکام اور مستقبل کی اسٹرٹیجک سمت


