امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی موقع ہے، مذاکرات کی میز پر ایران کو اپنا بہترین اور دانش مندی پر مبنی فیصلہ کرنا ہوگا۔
پیٹ ہیگسیتھ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو اپنا ایٹمی ہتھیاروں کا پروگرام چھوڑنا ہوگا، ڈیل کے لیے ایران کے پاس یہ تاریخی موقع ہے، بال ایران کے کورٹ میں ہے۔
امریکی وزیرِ جنگ کا کہنا تھا کہ ایرانی سمندروں کی امریکی ناکا بندی ہر گزرتے دن مضبوط ہو رہی ہے۔
دریں اثنا اس وقت پاکستان میں مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری ہو رہی ہے ایرانی وفد پہنچ چکا ہے جبکہ امریکی وفد آج پہنچ رہا ہے۔
قبل ازیں بدھ کو ڈیڈلائن ختم ہونے کے موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس میں توسیع کا اعلان کیا۔
دوسری جانب امریکی چیف آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے کہا ہے کہ امریکہ بحر الکاہل اور بحر ہند میں ایرانی جہازوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔
ہیگستھ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کا مکمل محاصرہ کر رہا ہے اور ایرانی شیڈو فلیٹ (خفیہ بیڑے) کے جہازوں کو روکنے کا عمل جاری رہے گا۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ نے ایران کے قریب سمندری حدود میں اپنا تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز روانہ کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سیاسی مذاکرات میں تعطل کے ساتھ ساتھ فوجی دباؤ کو مزید بڑھانا ہے۔
واشنگٹن کی جانب سے یہ فوجی کمک ایک ایسے وقت میں بھیجی گئی ہے جب وہ تہران کو اپنے جوہری پروگرام پر رعایت دینے، عالمی جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور ہفتوں سے جاری فوجی تناؤ کو ختم کرنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے عالمی معیشت پر شدید اثرات مرتب ہوئے ہیں، کیونکہ دنیا بھر میں تیل اور گیس کی ترسیل کا پانچواں حصہ اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔