امریکی سیاست میں ہلچل، 2 ارکانِ کانگریس ایریک سوالویل اور ٹونی گونزالز مستعفی

امریکی سیاست میں ہلچل، 2 ارکانِ کانگریس ایریک سوالویل اور ٹونی گونزالز مستعفی

جنسی ہراسانی اور زیادتی کے سنگین الزامات کے بعد امریکی ایوانِ نمائندگان کے 2 معروف ارکان، ڈیموکریٹک پارٹی کے ایریک سوالویل اور ری پبلکن پارٹی کے ٹونی گونزالز اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

ان ارکان پر اپنی ہی سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید دباؤ تھا کہ استعفیٰ نہ دینے کی صورت میں ان کے خلاف کانگریس میں رکنیت ختم کرنے کی قرارداد پیش کی جائے گی۔

کیلیفورنیا سے 7 بار رکن منتخب ہونے والے ایریک سوالویل، جو گورنر بننے کے مضبوط امیدوار تھے، پر ان کی سابقہ اسٹاف رکن لونا ڈریوس نے 2 بار جنسی حملے کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی ایوان نمائندگان کا عمران خان کی رہائی کے لیے صدر جو بائیڈن کو خط

رپورٹ کے مطابق سوالویل نے 4 دیگر خواتین کو بھی نازیبا پیغامات بھیجے تھے۔ بیورلے ہلز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کی وکیل نے دعویٰ کیا کہ سوالویل نے کانگریشنل سماعت سے بچنے کے لیے استعفیٰ دیا ہے، تاہم لونا ڈریوس اب ان کے خلاف باقاعدہ پولیس رپورٹ درج کرا رہی ہیں۔

ایریک سوالویل نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے عدالت میں اپنا دفاع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے استعفے سے خالی ہونے والی نشست پر 18 اگست کو انتخابات ہوں گے۔

دوسری جانب ٹیکساس سے ری پبلکن رکن کانگریس ٹونی گونزالز پر بھی ایک اسٹاف رکن کے ساتھ غیر اخلاقی تعلقات کا الزام سامنے آیا ہے، جس کے بعد متعلقہ خاتون نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی تھی۔

ٹونی گونزالز، جو 2020 میں پہلی بار منتخب ہوئے تھے، اس وقت شدید قانونی و عوامی دباؤ کا شکار ہیں۔ امریکی انتظامیہ نے دونوں سابق ارکان کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ حقائق منظرِ عام پر لائے جا سکیں۔

اس خبر کے سامنے آنے کے بعد امریکی سیاسی حلقوں میں اخلاقیات اور خواتین کے تحفظ پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی سیاست میں می ٹوتحریک کے بعد سے جنسی ہراسانی کے معاملات پر ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔

ایریک سوالویل جیسے قد آور سیاستدان کا مستعفی ہونا ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، خاص طور پر کیلیفورنیا جیسے اہم صوبے کی گورنری کے لیے۔

اسی طرح، ٹونی گونزالز کے کیس میں متاثرہ خاتون کی خودکشی نے معاملے کو مجرمانہ رنگ دے دیا ہے، جس کے باعث ری پبلکن پارٹی نے بھی ان سے لاتعلقی اختیار کرنا ہی بہتر سمجھا۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ اب امریکی ووٹرز اور سیاسی جماعتیں ذاتی کردار کو سیاسی اہلیت پر ترجیح دے رہی ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *