ایران کے سابق سپریم لیڈر شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا جہاں ان کے تین بیٹوں مصطفیٰ، میثم اور مسعود خامنہ ای نے نمازِ جنازہ اور دیگر مذہبی تقریبات میں شرکت کی جبکہ موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں شہید آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کے تابوت عوام کے دیدار کے لیے رکھے گئے، جہاں ہزاروں افراد نے حاضری دی۔ تقریب کے دوران مصطفیٰ، میثم اور مسعود خامنہ ای تابوتوں کے پیچھے نماز ادا کرتے اور سوگواروں کے ہمراہ دکھائی دیے۔
رپورٹس کے مطابق موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی کی وجہ سخت سیکیورٹی خدشات اور اسرائیل کی جانب سے مبینہ دھمکیوں کو قرار دیا جا رہا ہے جبکہ ان کی صحت سے متعلق بھی ڈاکٹرز نے اجازت نہیں دی کہ ابھی انہیں عوامی سطح پر دکھایا جائے ۔
شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ سوگواروں نے ایرانی پرچموں کے ساتھ سرخ پرچم بھی اٹھا رکھے تھے جنہیں ایران میں مزاحمت اور انتقام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس موقع پر شرکاء کی جانب سے امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے جبکہ فضا انتہائی جذباتی رہی۔
ایرانی حکومت نے سابق سپریم لیڈر کی آخری رسومات کے لیے ایک ہفتے پر مشتمل خصوصی پروگرام ترتیب دیا ہے۔ حکام کے مطابق شہید کی میت کو ایران کے مقدس شہروں قم اور مشہد کے علاوہ عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا بھی لے جایا جائے گا تاکہ وہاں عوام اور زائرین آخری دیدار کر سکیں۔ اس کے بعد 9 جولائی کو ان کی تدفین کی جائے گی۔
تقریب میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی سمیت اعلیٰ سیاسی عسکری اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی اور شہید رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
تہران میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے، جس کے پیش نظر انتظامات مزید وسیع کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے تھے۔ اس حملے میں ان کی بیٹی، داماد بہو اور 14 ماہ کی پوتی بھی شہید ہوئی تھیں جن کے تابوت بھی عوام کے آخری دیدار کے لیے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں رکھے گئے ہیں۔