وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت حکومتی ڈھانچے کا حجم اور اخراجات میں کمی کے حوالے سے اہم اجلاس آج منعقد ہوا جس میں پانچ وزارتوں میں 28 اداروں کو مکمل بند یا نجکاری یا ضم کرنےکے حوالے سے متعقلہ وزارتوں سے تجاویز طلب کر لی گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں آج حکومتی ڈھانچے کے حجم اور اخراجات میں کمی کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی حکومت نے حکومتی اداروں کی نجکاری اور بند کرنے کے حوالےسے متعلقہ وزارتوں سے تجاویز طلب کی ہیں۔ وزیر خزانہ کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی نے رائٹ سائزنگ پر اجلاس کو تجاویز دیں جس میں اجلاس کو بتایا گیا کہ ایک لاکھ پچاس ہزار کے قریب خالی آسامیاں ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے، وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومتی اخراجات میں کمی ہماری ترجیح ہے اور اخراجات میں کمی سے عوام کو فراہم کی جانے والی سروسز بہتر بنائیں گے،
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ نے سیاست کو خیر آباد کہہ دیا
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سرکاری خزانے پر بوجھ اداروں کی نجکاری کی جائے گی اور چھوٹے درجے کے کاروباروں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ وزارتِ خزانہ کی کمیٹی نے تجاویز پیش کیں کہ وزارت خزانہ وزارتوں کے کیش بیلنسز کی نگرانی کرے اور کمیٹی نے 5وفاقی وزارتوں میں اصلاحات کی سفارشات پیش کی ہیں۔ وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان اور وزارت سرحدی امور کو ضم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔پانچ وزارتوں میں 28اداروں کو مکمل بند یا نجکاری کی تجویز بھی دی گئی ہے۔پانچ وزارتوں میں 12 اداروں کو ضم کئے جانے کی تجویز بھی اجلاس کے سامنے پیش کی گئی جس پر وزیع اعظم نے کہا کہ مجوزہ اصلاحات کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے اور اصلاحات کے نفاذ کا جامع پلان بھی پیش کیا جائے۔

