(سید ذیشان)
پاکستان تحریک انصاف کا 8 ستمبر کو اعلان کردہ جلسہ منعقد ہوگا یا نہیں ورکرز میں اب بھی غیر یقینی کی صورتحال پائی جارہی ہیں۔ ورکرز کے مطابق بار بار اعلان کے باوجود جلسہ منسوخ کر دیا جاتا ہے اس لئے اس بار بھی خدشہ ہے کہ جلسہ منسوخ نہ کیا جائے یہی وجہ ہے کہ اس دفعہ ورکرز میں وہ جذبہ نہیں ہے جو اس سے پہلے ہوا کرتا تھا۔ورکرز نے آزاد ڈیجیٹل کو بتایا کہ جلسے سے کئی ہفتے پہلے وکررز تیاری کرنے میں مصروف ہو جاتے تھے لیکن اس بار وہ جوش اور سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہے۔
متعدد ورکرز نے بتایا کہ گزشتہ 22 اگست کو منعقد جلسہ منسوخ ہونے سے وکررز مایوس تھے اور اس بار اگر لیڈر شپ جلسہ منسوخ کرنے کا کہہ بھی دے تو وہ ہر صورت جلسہ کرینگے۔دوسری جانب وزیر اعلی اور صوبائی صدر پی ٹی آئی علی امین گنڈا پور نے جلسے کی تیاری شروع کردی ہے اور پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔
اجلاس میں پارٹی معملات،انے والے جلسے کی تیاریوں سمیت دیگر معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق اجلاس کل وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوگا جس بعد وزیر اعلیٰ پارٹی کے رہنماؤں سے الگ الگ ملاقاتیں کرینگے۔جس کے لئے باقاعدہ شیڈول بھی جاری کیا گیا ہے۔ شیڈول کے مطابق مرحلہ وار وزیر اعلیٰ تمام ممبران صوبائی و قومی اسمبلی سے ملے گے اور ان کی جانب سے جلسے کے لئے کی گئی تیاریوں کا جائزہ لینگے اور انہیں ہدایات جاری کرینگے۔
وزیر اعلیٰ تمام ڈویژنل قائدین سے بھی ملاقات کرینگے۔ ذرائع کے مطابق اس بار جلسے کے لیے الگ طرز پر منصوبہ بندی کی جارہی ہے جس کے تحت ورکرز کو جلسے کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔ ملاقات میں وزیر اعلیٰ ہر رکن صوبائی و قومی اسمبلی کو ذمہ داریاں دینگے اور تمام انتظامات کو حتمی شکل دینگے۔ ذرائع کے مطابق اس بار ورکرز کو باہر لانے میں مشکلات ہوسکتی ہے اس لئے قائدین کو خصوصی ہدایات جاری کی جائے گی تاکہ مایوس ورکرز کو ہر صورت باہر نکالا جائے۔اس حوالے سے ممبر صوبائی اسمبلی عارف احمد زئی نے آزاد ڈیجیٹل کو بتایا کہ جلسہ کے لیے تیاریاں مکمل ہے اور انتظامات کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔ان کے مطابق بڑی تعداد میں اس بار بھی ورکرز نکلے گئے۔

