محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسم کی نئی صورتحال کے حوالے سے اہم پیش گوئی جاری کر دی ہے، جس کے مطابق پنجاب، سندھ اور وفاقی دارالحکومت سمیت بیشتر علاقوں میں گرمی کی شدت میں اضافے کا امکان ہے۔
صوبائی دارالحکومت لاہور میں آج صبح کا آغاز تپتی دھوپ کے ساتھ ہوا جہاں درجہ حرارت 31 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے جبکہ کم سے کم درجہ حرارت 28 ڈگری رہنے کا امکان ہے۔ شہر میں ہوا کی رفتار 11 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے تاہم بارش کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی سورج آگ برسا رہا ہے، جہاں درجہ حرارت معمول سے 4 ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آج صبح شہرِ اقتدار میں پارہ 26 ڈگری تھا جو دن کے اوقات میں 36 ڈگری تک پہنچنے کی توقع ہے۔
دوسری جانب کراچی میں مطلع صاف ہونے کے باوجود ہوا میں نمی کا تناسب 75 فیصد ہونے کی وجہ سے موسم مرطوب محسوس کیا جا رہا ہے۔ کراچی کا موجودہ درجہ حرارت 28 ڈگری ہے مگر حبس کی وجہ سے یہ 31 ڈگری کی طرح محسوس ہو رہا ہے، جبکہ دن بھر پارہ 35 سے 37 ڈگری کے درمیان رہے گا۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی موسم خشک رہے گا اور آنے والے دنوں میں درجہ حرارت میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
پاکستان میں اپریل کے مہینے میں درجہ حرارت کا معمول سے زیادہ ہونا موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔ 26 اپریل 2026 تک کی صورتحال کے مطابق، بحیرہ عرب سے آنے والی نمی میں کمی اور ملک کے بالائی حصوں میں ہائی پریشر سسٹم کی موجودگی نے موسم کو قبل از وقت گرم کر دیا ہے۔
لاہور اور اسلام آباد جیسے شہروں میں درجہ حرارت میں 4 سے 6 ڈگری کا اضافہ تشویشناک ہے کیونکہ یہ صورتحال عام طور پر مئی کے آخر یا جون میں دیکھی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے گرد و غبار اور خشک گرمی کی لہر کے اثرات انسانی صحت اور زراعت، خاص طور پر گندم کی کٹائی کے بعد کی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ دن کے اوقات میں پانی کا استعمال زیادہ کریں اور بلا ضرورت دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں۔