ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کی خاطر امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اب بھی مسلسل اور فعال مرکزی سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ہفتہ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے واشنگٹن اور تہران پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں کیونکہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے انتہائی واضح اور غیر مبہم رہا ہے کہ کسی بھی قسم کے عالمی یا علاقائی اختلافات کا حل ہولناک جنگوں میں نہیں بلکہ صرف اور صرف بامقصد مذاکرات اور مؤثر سفارت کاری میں ہی پوشیدہ ہے۔
عالمی طاقتوں اور شراکت داروں سے روابط کا فروغ
ترجمان دفتر خارجہ نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے چین، برطانیہ، یورپی یونین اور دیگر انتہائی اہم عالمی شراکت داروں کے ساتھ بھرپور اور وسیع پیمانے پر سفارتی رابطے کیے ہیں، جو اب بھی جاری ہیں، ان تمام کوششوں کا واحد مقصد علاقائی امن کا قیام، عالمی تعاون کا فروغ اور دنیا کو درپیش مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنا ہے۔
انہوں نے پہلی بار بتایا کہ اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر، وزیراعظم پاکستان نے 23 سے 26 مئی کے دوران چین کا ایک انتہائی اہم اور کامیاب دورہ کیا، جس میں چینی قیادت کے ساتھ دوطرفہ سٹریٹجک تعلقات کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ اور خطے کی مجموعی امن صورتحال پر تفصیلی اور تعمیری بات چیت کی گئی۔
اقوامِ متحدہ کا فورم اور واشنگٹن کے ساتھ سٹریٹجک مذاکرات
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چین کے کامیاب دورے سے واپسی پر اقوامِ متحدہ کے ایک اعلیٰ سطح کے عالمی فورم میں خصوصی شرکت بھی کی۔
انہوں نے بتایا کہ اسحاق ڈار نے وہاں عالمی حکمرانی کے نظام میں ضروری اصلاحات اور مشترکہ عالمی مسائل کے پائیدار حل پر دنیا کے مختلف ممالک کے نمائندوں سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ ان اہم ترین ملاقاتوں میں پرتگال، کولمبیا، کوسٹا ریکا، کیوبا اور انڈونیشیا سمیت متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام شامل تھے۔
ترجمان نے مزید انکشاف کیا کہ اسی دوران امریکی حکام کے ساتھ بھی انتہائی اعلیٰ سطح پر اہم ترین رابطے قائم کیے گئے ہیں۔ ان رابطوں میں امریکی وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر سے ہونے والی خصوصی ملاقاتیں شامل ہیں، جن میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے، انسدادِ دہشتگردی کی کوششوں اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے پر مکمل اتفاق کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی قیادت نے خطے میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان کے اقدامات، خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کو نہ صرف سراہا بلکہ اس پر تفصیلی تبادلہ خیال بھی کیا۔
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی اقدامات کی مذمت
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ 8 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی کارروائیوں کی سخت مذمت کی ہے۔ اجلاس میں مشرقی القدس کی تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کو بھی ناقابل قبول قرار دیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر تمام غیر قانونی اقدامات بند کرے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان خطے میں امن و استحکام اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کے اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے۔
بھارت کی جانب سے دریائے چناب کا رخ موڑنے پر تشویش
دفتر خارجہ نے بھارت کی جانب سے دریائے چناب کا پانی دریائے بیاس کی طرف موڑنے کی کوششوں پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں سلال ڈیم کی ڈی سلٹنگ کا معاملہ نہایت حساس اور تشویشناک ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے چناب پر اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا، جبکہ بھارت بھی اس معاہدے کی مکمل پاسداری کا پابند ہے۔
سلال ڈیم کی ڈی سلٹنگ معاہدے کی خلاف ورزی قرار
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ 1978 کے سلال معاہدے کے مطابق ڈیم کی ڈی سلٹنگ کی اجازت موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین اور سندھ طاس معاہدے کی روح کے خلاف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے سلال ڈیم کی ڈی سلٹنگ کے معاملے پر پاکستان کو پیشگی آگاہ نہیں کیا، جو معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہے۔
غذائی سلامتی کو خطرات سے خبردار
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی غذائی سلامتی کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش سے جنوبی ایشیا میں عدم استحکام میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو مغربی دریاؤں کے پانی کے بلا رکاوٹ استعمال کا حق حاصل ہے۔
کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازع
ترجمان نے جموں و کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی غیر ملکی شخصیت کا مقبوضہ کشمیر کا دورہ خطے کی قانونی یا سیاسی حیثیت تبدیل نہیں کرسکتا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان، بھارت میں تعینات سوئس سفیر کے مقبوضہ کشمیر کے دورے کے معاملے پر سوئس حکام سے رابطے میں ہے اور اپنی تشویش سے انہیں آگاہ کر رہا ہے۔
پاکستان کے ایران، امریکا کے ساتھ تعلقات
واضح رہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے تاریخی، مذہبی اور جغرافیائی تعلقات ہیں، جبکہ دوسری طرف امریکا کے ساتھ پاکستان کے دہائیوں پر محیط سٹریٹجک اور معاشی روابط قائم ہیں۔
ماضی میں بھی جب کبھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہوئے، تو پاکستان نے ہمیشہ ایک غیر جانبدار اور امن پسند ملک کے طور پر دونوں ممالک کو براہِ راست تصادم سے روکنے میں اپنا مثبت کردار ادا کیا۔
پاکستان کا یہ پختہ یقین رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی جنگ نہ صرف مسلم امہ بلکہ خود پاکستان کی سرحدوں، معیشت اور سیکیورٹی کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایک بار پھر دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان ایک ’سفارتی پل‘ کا کردار ادا کر رہا ہے۔
دفتر خارجہ کی بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سفارتی مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے حالیہ دنوں میں مصر، ویتنام، ایران اور یورپی یونین کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بھی اعلیٰ سطح کے ٹیلیفونک رابطے ہوئے ہیں، جن میں دوطرفہ تعلقات اور مشرقِ وسطیٰ کی نازک صورتحال پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس کے علاوہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا 8 واں دور بھی کامیابی سے منعقد ہوا، جس میں دونوں فریقین نے باہمی تعاون کے مختلف شعبوں پر اب تک ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا اور خطے میں امن کے عزم کو دہراتے ہوئے ایک مشترک اعلامیہ بھی جاری کیا۔
ترجمان نے بریفنگ کے اختتام پر اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر خطے میں امن، استحکام اور معاشی ترقی کے لیے اپنا مثبت کردار بغیر کسی تعطل کے جاری رکھے گا۔
پاکستان کے عالمی طاقتوں سے شاندار تعلقات
دفتر خارجہ کی اس تفصیلی بریفنگ کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی انتہائی متحرک اور کثیر الجہتی (ملٹی ٹریک) سفارت کاری پر گامزن ہے۔
پاکستان اس وقت دنیا کی 2 بڑی طاقتوں یعنی چین اور امریکا دونوں کے ساتھ بیک وقت بہترین توازن برقرار رکھے ہوئے ہے۔ 23 سے 26 مئی کے مابین وزیراعظم کا دورہِ چین اور اس کے فوراً بعد امریکی وزیر خارجہ اور قومی سلامتی مشیر سے اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان عالمی بلاک بندی کا حصہ بنے بغیر خطے میں ایک مصلح اور ثالث کا کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکا اور ایران کے معاملے میں پاکستان کا متحرک ہونا اس کی اپنی مجبوری بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ ایران کے ساتھ طویل سرحد اور گیس پائپ لائن جیسے بڑے معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے پاکستان خطے میں کسی بھی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
اقوامِ متحدہ کے فورم پر پرتگال، کولمبیا اور انڈونیشیا جیسے متنوع ممالک سے روابط قائم کر کے پاکستان دراصل امریکا ایران تنازع پر ایک وسیع عالمی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔