بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے اپنی شخصیت اور تشخص کے حقوق کی خلاف ورزی پر آنے والی فلم ‘کالا ہرن’ کے پروڈیوسرز اور متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے فلم کے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو قانونی نوٹس جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فلم کی تشہیر، پروموشن اور ریلیز کو فوری طور پر روکا جائے۔
نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فلم کا موضوع 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے مشابہت رکھتا ہے، جس میں سلمان خان کئی برسوں سے قانونی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ سلمان خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے نام، تصویر یا ان سے ملتے جلتے کسی بھی کردار یا حوالہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔
سلمان خان کی قانونی ٹیم کے مطابق فلم میں ایسا کردار پیش کیا گیا ہے جو اداکار سے مشابہت رکھتا ہے، جس سے نہ صرف ان کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے بلکہ زیرِ سماعت مقدمے پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ وکلا کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی پیشکش سلمان خان کے منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حق کو متاثر کر سکتی ہے۔
دوسری جانب فلم کے ڈائریکٹر بھرت ایس شرینیت اور پروڈیوسر امیت جانی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانونی نوٹس دراصل فلم کی تیاری میں رکاوٹ ڈالنے اور پروڈکشن ٹیم کو دباؤ میں لانے کی کوشش ہے۔
فلم سازوں نے حال ہی میں ‘کالا ہرن’ کا پوسٹر جاری کیا تھا جبکہ 20 جون کو فلم کا ٹیزر ریلیز کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ پروڈکشن ٹیم کا دعویٰ ہے کہ فلم حقیقی عدالتی اور قانونی واقعات سے متاثر ضرور ہے، تاہم اس کا مقصد کسی فرد کو نشانہ بنانا نہیں۔
تنازع کے بعد 1998 کے کالا ہرن شکار کیس نے ایک بار پھر عوامی توجہ حاصل کر لی ہے۔ یہ مقدمہ مختلف عدالتی فیصلوں، اپیلوں اور ضمانتوں کے مراحل سے گزرنے کے باوجود تاحال راجستھان ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق فلم کے تشہیری پوسٹر میں ایک ایسا کردار دکھایا گیا ہے جو ظاہری طور پر سلمان خان سے خاصی مشابہت رکھتا ہے، جس کے ہاتھ میں بندوق ہے اور اس نے اداکار کا مشہور فیروزی رنگ کا بریسلٹ بھی پہن رکھا ہے۔