وفاقی حکومت نے صنعتی شعبے کے لیے بجلی کے نرخوں میں بڑی تبدیلی لانے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے جس کے تحت کم بجلی استعمال کرنے والی صنعتوں پر زیادہ فکسڈ چارجز عائد کیے جائیں گے جبکہ زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صنعتی صارفین کو رعایتی نرخوں پر بجلی فراہم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
پاور ڈویژن کے ذرائع کے مطابق نئی ٹیرف پالیسی کا بنیادی مقصد صنعتوں کو قومی گرڈ سے منسلک رکھنا اور سولر توانائی کی جانب تیزی سے منتقلی کے رجحان کو متوازن بنانا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ متعدد صنعتی یونٹس اپنی توانائی کی ضروریات سولر سسٹمز کے ذریعے پوری کر رہے ہیں جس کے باعث قومی گرڈ کے مالی بوجھ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ پالیسی کے تحت کم بجلی استعمال کرنے والی صنعتوں کے لیے فکسڈ چارجز میں اضافہ کیا جا سکتا ہے جبکہ زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صنعتی صارفین کو نسبتاً سستی بجلی فراہم کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے صنعتی بجلی کا نرخ 6 سے 8 سینٹ فی یونٹ تک لانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے مجوزہ منصوبہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ بھی شیئر کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف نے ان صنعتوں کا مکمل ڈیٹا طلب کیا ہے جو قومی گرڈ سے بجلی لینے کے بجائے متبادل ذرائع خصوصاً سولر توانائی پر منتقل ہو چکی ہیں یا منتقل ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
پاور ڈویژن کے حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں نئی پالیسی کا اطلاق صرف صنعتی صارفین پر کیا جائے گا تاہم بعد ازاں اسے کمرشل اور گھریلو صارفین تک بھی توسیع دی جا سکتی ہے۔
حکومتی اندازوں کے مطابق نئی ٹیرف پالیسی کے نفاذ سے قومی گرڈ سے بجلی کی طلب میں تقریباً ایک ہزار میگاواٹ تک اضافہ ہو سکتا ہے جس سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی آمدن میں بہتری اور گرڈ کے آپریشنل اخراجات پورے کرنے میں مدد ملے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ پالیسی کا حتمی مسودہ آئندہ دو ماہ کے دوران تیار کر کے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، جس کے بعد صنعتی شعبے کے لیے بجلی کے نرخوں کا نیا نظام متعارف کرایا جا سکتا ہے۔