لاہور میں شہریوں کی حفاظت کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے، پبلک ٹرانسپورٹ اور آن لائن ٹیکسی سروسز کے لیے سکیورٹی بارکوڈ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد شہریوں کو محفوظ سفری سہولت فراہم کرنا اور جرائم کے خطرات کو کم کرنا ہے۔
حکام کے مطابق یہ نظام لاہور پولیس اور سیف سٹی اتھارٹی کی مشترکہ کوششوں سے تیار کیا جا رہا ہے، اس کے تحت ہر گاڑی، ڈرائیور اور کنڈکٹر کی مکمل تفصیلات ایک بارکوڈ میں محفوظ ہوں گی۔
بارکوڈ سسٹم کیسے کام کرے گا؟
نئے نظام کے تحت ہر پبلک ٹرانسپورٹ اور آن لائن ٹیکسی پر ایک سکیورٹی بارکوڈ لگایا جائے گا ، شہری اس بارکوڈ کو اپنے موبائل سے اسکین کر کے فوری معلومات حاصل کر سکیں گے۔
اس بارکوڈ میں ڈرائیور کی مکمل شناخت ، کنڈکٹر اور گاڑی کی تفصیلات اور رجسٹریشن اور ریکارڈ کی معلومات شامل ہونگی۔
یہ بھی پڑھیں :لاہور میں آن لائن ٹیکسی سروسز کیلئے نیا سکیورٹی نظام متعارف
مزید براں آن لائن رائیڈ بُک کرنے والے مسافر بھی گاڑی کی تفصیلات پہلے سے چیک کر سکیں گے۔
سکیورٹی اور نگرانی میں بڑا اضافہ
پولیس حکام کے مطابق اس نظام سے جرائم پیشہ عناصر کے لیے ٹرانسپورٹ سروسز میں کام کرنا مشکل ہو جائے گا ، خاص طور پر جعلی شناخت یا غیر رجسٹرڈ افراد کی نشاندہی آسان ہو جائے گی۔
مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آن لائن فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز کے لیے کریکٹر سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کا اعتماد مزید بڑھایا جا سکے۔
ڈیلیوری بوائز اور ریکارڈ کی تصدیق
ڈی آئی جی فیصل کامران کے مطابق بعض سنگین جرائم میں ڈیلیوری رائیڈرز کے ملوث ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ اسی لیے ان کے لیے سخت چیکنگ اور ریکارڈ ویریفیکیشن لازمی کی جا رہی ہے۔
فوڈ ڈیلیوری کمپنیوں سے بھی مکمل ڈیٹا طلب کر لیا گیا ہے تاکہ ایک شفاف اور محفوظ نظام بنایا جا سکے۔
عوامی فائدہ اور ممکنہ اثرات
یہ نیا سکیورٹی بارکوڈ سسٹم شہریوں کے لیے کئی فوائد لے کر آئے گا جن میں سفر کے دوران سیکیورٹی میں اضافہ ہوگا ، جعلی یا غیر رجسٹرڈ ڈرائیورز کی روک تھام اور آن لائن رائیڈ سروسز پر اعتماد میں اضافہ شامل ہے ۔
تاہم کچھ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس نظام کے نفاذ کے لیے مؤثر ڈیٹا بیس اور سخت نگرانی ضروری ہوگی، ورنہ اس کے نتائج مکمل طور پر مؤثر نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں :کاواساکی کی 20 سال بعد شاندار واپسی، نئی ٹو اسٹروک بائیک نے ہلچل مچادی

