بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار پرکاش راج قانونی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بنگلورو کی ایک عدالت نے مبینہ طور پر ایک سے زائد ووٹر شناختی کارڈ رکھنے کے مقدمے میں ان کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب پرکاش راج متعدد بار طلب کیے جانے کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ 2019 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب وکیل دلیپ کمار نے بنگلورو کے ہلاسورو گیٹ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ پرکاش راج بیک وقت کرناٹک، تامل ناڈو، آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں ووٹر کے طور پر رجسٹرڈ ہیں۔
شکایت کنندہ کے مطابق الیکشن کمیشن آف انڈیا کے قواعد کے تحت کوئی بھی شہری صرف ایک ہی مقام پر ووٹر رجسٹریشن رکھ سکتا ہے، جبکہ متعدد ریاستوں میں ووٹر اندراج قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالتی کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل پرکاش راج نے کرناٹک کے قصبے دھرمستھلا سے متعلق ایک پریس کانفرنس کی تھی۔ تاہم اداکار ماضی میں ان الزامات کو مسترد کر چکے ہیں۔
پرکاش راج کا مؤقف رہا ہے کہ وہ صرف تامل ناڈو میں بطور ووٹر رجسٹرڈ ہیں اور وہیں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرتے ہیں۔میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ اداکار کے وکلا عدالت کے فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں یا وارنٹ کی منسوخی اور فوری ضمانت کے لیے درخواست دائر کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب پرکاش راج اپنی فلمی مصروفیات بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ حالیہ دنوں میں تامل فلم کالی داس 2 اور تیلگو فلموں سیتھا پینم، ایس سراسوتی اور ڈیکویت، اے لو اسٹوری میں جلوہ گر ہوئے ہیں۔ان کی آنے والی فلموں میں ہندی فلم دریشیم 3، تیلگو فلمیں وارانسی اور اسپرٹ جبکہ تامل فلم جنا نائگن شامل ہیں۔