خیبرپختونخوا حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کو کامیاب بنانے کے لیے ایک حکمت عملی ترتیب دی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے ہر رکن اسمبلی کو 500 افراد لانے کا ٹاسک دیا ہے اور اس مقصد کے لیے پیٹرول اور گاڑیوں کے اخراجات کے لیے 4 لاکھ روپے مختص کیے ہیں۔ان کے مطابق، ہر صورت میں ڈی چوک پہنچنا ہے، اور اراکین کی مانیٹرنگ کے لیے موٹروے انٹرچینج پر خفیہ کیمروں کا استعمال کیا جائے گا۔ گنڈاپور نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ بعض اراکین کم تعداد میں لوگوں کے ساتھ واپس آ جاتے ہیں اور سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل کر دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی میں لاشیں گرانے کی منصوبہ بندی ہو چکی ہے، فیصل واوڈا کا دعوی
یہ تمام اقدامات اس احتجاج کو مؤثر بنانے کی کوشش ہیں، جس کا مقصد پی ٹی آئی کی قوت کو دوبارہ متحرک کرنا ہے۔

