شہید آیت اللہ خامنہ ای کے نمازِ جنازہ میں شرکت کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر واپس وطن روانہ

شہید آیت اللہ خامنہ ای کے نمازِ جنازہ میں شرکت کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر واپس وطن روانہ

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات میں شرکت کے بعد وطن واپسی کے لیے تہران سے روانہ ہو گئے۔

ایرانی حکومت کی جانب سے پاکستان کے عسکری سربراہ کو باوقار انداز میں الوداع کیا گیا، جسے دونوں برادر ممالک کے درمیان قریبی تعلقات اور باہمی احترام کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

روانگی کے موقع پر ایران کے وزیر داخلہ سکندر مومنی نے اعلیٰ سول اور عسکری حکام کے ہمراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو تہران ایئرپورٹ پر الوداع کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام، برادرانہ تعلقات اور علاقائی امن و استحکام کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کے شہید سابق رہبرِ اعلیٰ خامنہ ای کی تجہیز وتدفین کی 7 روزہ رسومات، کب ، کہاں کیا ہو گا؟

اس سے قبل فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران میں منعقدہ نمازِ جنازہ اور سرکاری سوگ کی تقریبات میں شرکت کی، جہاں انہوں نے شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کیا، فاتحہ خوانی کی اور ایرانی عوام و قیادت سے اظہارِ تعزیت کیا۔ تقریب میں دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے سربراہان، اعلیٰ حکومتی شخصیات، عسکری نمائندوں اور مذہبی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

پاکستانی وفد کی شرکت کو دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات اور مشکل وقت میں یکجہتی کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس موقع پر پاکستان کی جانب سے ایرانی عوام کے ساتھ ہمدردی اور تعزیت کا پیغام بھی دہرایا گیا۔

ایرانی حکام نے پاکستانی وفد کی آمد اور شرکت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ علاقائی مفادات پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک نے خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پٹرول سستا ہونے کے بعد سولر پلیٹس کی قیمتوں سے متعلق بڑی خبر

نمازِ جنازہ اور الوداعی تقریبات کی تکمیل کے بعد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خصوصی طیارے کے ذریعے وطن واپس روانہ ہو گئے، جبکہ ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی اور اعلیٰ سول و عسکری حکام نے انہیں رسمی طور پر رخصت کیا۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو ایران میں خصوصی اہمیت دی گئی اور اسے دونوں ممالک کے مضبوط برادرانہ تعلقات کی ایک اور علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

Related Articles