آئینی ترمیم سے عدلیہ کو مقننہ کے طابع کر دیا گیا ہے: سینٹر شبلی فراز

آئینی ترمیم سے عدلیہ کو مقننہ کے طابع کر دیا گیا ہے: سینٹر شبلی فراز

رہنما پی ٹی آئی سینٹر شبلی فراز نے کہا ہے آئین میں عدلیہ ، مقننہ اور انتظامیہ کا اپنا کردار ادا ہوتا ہے اور آئینی ترمیم سے عدلیہ کو مقننہ کے طابع کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق رہنما پی ٹی آئی شبلی فراز نے پشاور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہےکہ آئینی ترمیم سے انصاف کے نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور آئینی ترمیم سے عدلیہ کو مقننہ کے زریعے تابع کردیا گیا ہے، انہوں نے آئینی ترمیم کے حوالے سے واضح کیا کہ ججز کی تقرری پارلیمانی کمیٹی کے زریعے کرنا عدلیہ میں مداخلت ہے اورآئینی ترمیم سے عدلیہ کی آزادی برقرار نہیں رہے گی ۔سینٹر شبلی فراز نے کہا کہ پشاور ضمانت کرانے آئے ہیں ،ضمانت کے بعد بانی چیئرمین سے ملنے کی کوشش کرونگا اورموجودہ حالات میں پی ٹی آئی مشکلات سے دوچار ہے اور ہم کوشش کررہے ہیں جلد سے جلد بانی پی ٹی آئی سےملاقات ہو جائے ۔

مزید پڑھیں: 26 ویں آئینی ترمیم سپریم کورٹ میں چیلنج

بانی چیئرمین قانونی امور و سیاسی امور کے حوالے سے شخصیات کے مطابق ملاقات کرتے ہیں ۔ شبلی فراز نے کہا کہ بیرسٹر گوہر سے بانی چیئرمین نے قانونی امور کے حوالے سے ملاقات کی ہے،سیاسی امور کےلئے ہمیں بلایا ہے ۔مرکزی رہنماؤں پر عدم اعتماد کی کوئی بات نہیں ہے ، انکا کہا تھا کہ حکمران سمجھتے ہیں کہ ہمیشہ رہینگے،مستقبل کی حکومت اپنی مرضی کے ججز تعینات کرےگی ۔جو ماحول بنایا گیا عدالیہ پر کاری ضرب ہے۔آئینی ترمیم زبردستی دھونس لالچ کے زریعے کی گئی ہے اورچار سے پانچ ممبران آئینی ترمیم میں ہمارے خلاف استعمال کئے گئے ہیں وفاداریاں تبدیل کرکے 63A کےلئے راہ ہموار کی گئی ہے۔ سینٹر شبلی فراز نے واضح کیا کہ وفاداریاں تبدیل کرنے کے اقدام سے جمہوری پارٹی اور جمہوری نظام کمزور ہوا اورآئینی ترمیم سے ہارس ٹریڈنگ کو معزز شکل دی گئی ہے۔ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے سے انہوں نے کہا پارٹی نے پارلیمانی کمیٹی میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ہمارے آئینی ترمیم پر شدید تحفظات ہیں ۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *