ایک لاکھ روپے تک ماہانہ تنخواہ لینے والے ملازمین کے لیے بڑی خبر

ایک لاکھ روپے تک ماہانہ تنخواہ لینے والے ملازمین کے لیے بڑی خبر

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ جس شہری کی ماہانہ تنخواہ 50 ہزار روپے یا اس سے کم ہے، اس پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوگا جبکہ 50 ہزار سے 1 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والوں پر صرف ایک فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔

ٹیکس سلیب کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا واضح وژن ہے کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کا بوجھ ایمانداری سے ٹیکس دینے والے شہریوں پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

عطا تارڑ نے بتایا کہ ٹیکس کلیکشن کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے نئے ٹربیونلز قائم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعظم کا مؤقف ہے کہ جب تک ٹیکس وصولی کا نظام بہتر نہیں ہوگا، ملکی معیشت میں پائیدار بہتری ممکن نہیں۔

انہوں نے ایف بی آر (FBR) سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ادارے میں ڈیجیٹلائزیشن کا عمل رکا ہوا تھا، بعض افسران کرپشن میں ملوث تھے اور کوئی مربوط نظام موجود نہیں تھا۔ وزیراعظم کی ہدایات کے بعد اب کسٹمز اور انکم ٹیکس کے کسی افسر کی تعیناتی سفارش کی بنیاد پر نہیں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے مجموعی طور پر 5ہزار131 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا،تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

وفاقی وزیر کے مطابق ٹیکس کلیکشن کا آغاز سب سے پہلے شوگر انڈسٹری سے کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں شوگر ملز مالکان پیداوار کم ظاہر کرکے ٹیکس چوری کرتے تھے، تاہم اب مل سے نکلنے والی ہر بوری پر بارکوڈ لگایا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سخت نگرانی اور مانیٹرنگ کے نتیجے میں صرف شوگر ملز سے 60 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ غیر قانونی تمباکو کی تجارت کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ٹوبیکو کمپنیوں پر بھی چھاپے مارے گئے ہیں۔

آئی ایم ایف اور ڈیفالٹ کے خطرے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ خودکشی کر لیں گے لیکن آئی ایم ایف (IMF) کے پاس نہیں جائیں گے، تاہم بعد میں وہ آئی ایم ایف کے پاس گئے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کو اقوام متحدہ میں بی ایل اے کی بلیک لسٹنگ کیلئے پاکستان کی حمایت کرنی چاہیے ، امریکی جریدہ

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی تاریخ میں آئی ایم ایف سے نجات ہمیشہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے حاصل کی ہے۔ ان کے مطابق اگر پیرس میں وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات نہ کی ہوتی تو ملک ڈیفالٹ کر جاتا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ معاشی گنجائش اور ریلیف بہت محنت کے بعد پیدا کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف متعدد بار یہ واضح کر چکے ہیں کہ جیسے ہی معیشت میں مزید گنجائش پیدا ہوگی، عوام کو مزید ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

Related Articles