موسمیاتی تبدیلیوں کے زیرِ اثر جہاں دنیا میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں ہو رہی ہیں وہیں ایک نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 2024 میں ڈینگی کے 20 فیصد کے قریب کیسز موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں۔
اس حوالے سے امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق نے نشاندہی کی ہے کہ کس طرح دنیا کے درجہ حرارت میں اضافہ مچھروں سے پھیلنے والے اس سنگین مرض کے پھیلاؤ کا باعث بن رہا ہے۔
اس سے قبل سائنسدانوں نے دریافت کیا تھا کہ 2024 میں انسانوں کے باعث آنے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مختلف موسمیاتی اثرات جیسے سمندری طوفان، جنگلات میں آتشزدگی، خشک سالی اور سیلاب وغیرہ میں اضافہ ہوا ہے۔
محققین نے بتایا کہ ڈینگی واقعی وہ پہلا مرض ہے جس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بدلتا موسم اس پر اثرانداز ہو رہا ہے۔مچھروں کے کاٹنے سے پھیلنے والے اس مرض کے شکار افراد کو سردرد، مسلز، ہڈیوں یا جوڑوں میں تکلیف، متلی، قے، آنکھوں کے اندر تکلیف، غدود سوج جانا اور خارش جیسی علامات کا سامنا ہوتا ہے۔
بیشتر مریض ایک ہفتے کے اندر ٹھیک ہوجاتے ہیں، مگر کئی بار علامات کی شدت بڑھ جاتی ہے اور اس صورت میں یہ بیماری جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ڈینگی کی شدت اس وقت بڑھتی ہے جب خون کو جمنے میں مدد فراہم کرنے والے خلیات (پلیٹلیٹس) کی تعداد بہت زیادہ کم ہوجائے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ رواں برس دنیا بھر میں ڈینگی کے 19 فیصد کیسز موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں۔ تحقیق کے مطابق 20 سے 29 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان درجہ حرارت ڈینگی کے لیے پھیلاؤ کے لیے مثالی ثابت ہوتا ہے۔

