لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ موٹر سائیکلوں کو پٹرول کی بجائے بیٹری پر منتقل کرے تاکہ سموگ کے مسئلے کو حل کیا جا سکے۔ یہ فیصلہ جسٹس شاہد کریم کی سربراہی میں سموگ کی روک تھام کے لیے دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران آیا۔
عدالت نے پنجاب حکومت کو لاہور میں موٹر سائیکلوں کی سخت نگرانی کرنے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ ان کی تعداد میں اضافے کو روکا جا سکے اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کیا جا سکے۔
عدالت عالیہ نے پنجاب حکومت سے یہ بھی کہا کہ وہ لاہور میں چھوٹی اور درمیانے درجے کی پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے نئی پالیسی مرتب کرے۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے الیکٹرک بسوں کے لیے بجٹ مختص کر دیا ہے، اور اس ضمن میں الیکٹرک بسوں کی خریداری کا فیصلہ ایک احسن قدم ہے جو ماحولیاتی آلودگی میں نمایاں کمی لائے گا۔
تحریری حکمنامے میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومت پنجاب نے ایسی جگہوں کی نشاندہی کی ہے جہاں درخت لگائے جا سکتے ہیں، اور اس کے لیے نئی زمین خریدنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے علاوہ، حکومتی پلان کے مطابق جی ٹی روڈ، ملتان روڈ اور فیروزپور روڈ پر واقع انڈسٹری یونٹس کو انڈسٹریل اسٹیٹس میں منتقل کیا جائے گا تاکہ سموگ کی شدت کو کم کیا جا سکے۔
عدالت نے مزید کہا کہ اگر سموگ پالیسی پر سنجیدگی سے عملدرآمد کیا جائے تو اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ کیس کی مزید سماعت 20 نومبر کو کی جائے گی۔