خیبر پختونخوا میں سیاسی سبکی کے بعد آزاد جموں کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں بھی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کا جلسہ عوامی پذیرائی حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔
عینی شاہدین اور میڈیا رپورٹس کے مطابق جلسہ گاہ میں کرسیاں خالی رہیں اور عوام کی عدم دلچسپی کے باعث پنڈال ویرانی کا منظر پیش کرتا رہا، جس سے پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
واضح رہے کہ اس جلسے کے وقت پر خطرناک سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اہم بین الاقوامی امن مذاکرات جاری ہیں اور عالمی برادری پاکستان کو خطے میں ’ قوتِ خیر‘کے طور پر تسلیم کر رہی ہے، آزاد کشمیر جیسے حساس علاقے میں سیاسی افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کو ملک دشمن عناصر کے لیے موقع فراہم کرنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب دنیا پاکستان کے مثبت کردار کی معترف ہے، تو ایسی ناکام سیاسی سرگرمیاں صرف ریاست کے استحکام کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ مظفرآباد میں شہریوں کی جانب سے جلسے کو مسترد کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام ترقی اور امن کے بجائے انتشار کی سیاست کا حصہ بننے کو تیار نہیں ہیں۔
آزاد جموں کشمیر کا سیاسی ماحول ہمیشہ سے حساس رہا ہے، خاص طور پر جب لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف بھارت کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیزی کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
اپریل 2026 کے وسط میں جب پاکستان بین الاقوامی سطح پر امریکا اور ایران کے درمیان کامیاب ثالثی کے ذریعے ایک عالمی سفارتی قوت بن کر ابھر رہا ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے مظفرآباد میں جلسے کی کال دی گئی تھی۔
ماضی میں پی ٹی آئی آزاد کشمیر میں حکومت سازی کر چکی ہے، تاہم حالیہ مہینوں میں داخلی انتشار اور قیادت کے تضادات کی وجہ سے اس کے ووٹ بینک میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ 25 اپریل 2026 کو مظفرآباد کے عوام نے اس جلسے سے دوری اختیار کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ریاست کے وسیع تر مفاد اور عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے وقار کو کسی بھی سیاسی مہم جوئی پر قربان کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔