سولر سسٹم لگوانے والوں کو بڑا جھٹکا،اضافی فیس مقرر کر دی گئی

سولر سسٹم لگوانے والوں کو بڑا جھٹکا،اضافی فیس مقرر کر دی گئی

ملک میں سولر توانائی استعمال کرنے والے صارفین نے نئی پالیسی تبدیلیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے سولر صارفین کیلئے بڑا دھچکا  قرار دیا ہے۔

حالیہ ترامیم کے تحت نیپرا سے لائسنس کے حصول کو لازمی قرار دیے جانے اور فی کلوواٹ اضافی فیس عائد کرنے کی تجاویز نے صارفین میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ سولر سسٹم لگوانے والوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگی تنصیب کے بعد اب نئی فیسوں اور پیچیدہ طریقہ کار سے ان پر مزید مالی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔

صارفین کے مطابق نیٹ میٹرنگ کے بجائے نیٹ بلنگ سسٹم کی طرف منتقلی بھی ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس میں بجلی کم نرخ پر خریدی جاتی ہے جبکہ صارف کو زیادہ قیمت پر بجلی فراہم کی جاتی ہے جس سے بجلی کے بلوں میں کمی کے بجائے اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:تعمیراتی شعبے سے اچھی خبر، سیمنٹ کی قیمت میں استحکام آگیا،نئی قیمت کیا؟

صارفین کا کہنا ہے کہ  ان اقدامات سے قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کو دھچکا لگ سکتا ہے اور وہ صارفین جو بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں سے بچنے کیلئے سولر کا رخ کر رہے تھے، اب اس فیصلے پر نظرِ ثانی کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سولر پالیسی کو عوام دوست بنائے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو صاف توانائی کے استعمال کی حوصلہ شکنی کا باعث بنیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پالیسی میں توازن نہ رکھا گیا تو نہ صرف صارفین متاثر ہوں گے بلکہ ملک میں قابلِ تجدید توانائی کے اہداف بھی متاثر ہو سکتے ہیں

واضح رہے کہ وزارتِ توانائی پاور ڈویژن کی جانب سے سولر سسٹم سے متعلق نئی ترامیم متعارف کروائی گئی ہیں جن کے تحت اب گھریلو اور کمرشل سطح پر سولر سسٹم نصب کرنے والے صارفین کے لیے نیپرا سے باقاعدہ لائسنس حاصل کرنا اور اضافی رقم کی ادائیگی لازمی قرار دی گئی ہے ۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *