نئے کرنسی نوٹوں کے اجرا سے متعلق بڑی خبر آگئی

نئے کرنسی نوٹوں کے اجرا سے متعلق بڑی خبر آگئی

پاکستان میں جدید حفاظتی خصوصیات کے حامل نئے کرنسی نوٹوں کے انتظار میں بیٹھے شہریوں اور تاجر برادری کے لیے اہم خبر سامنے آئی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں نئے کرنسی نوٹوں کے اجرا کے عمل میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

کراچی ایوانِ تجارت و صنعت میں تاجروں اور صنعت کاروں کے ایک بڑے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے مرکزی بینک کی جانب سے ارسال کیے گئے مجوزہ خاکوں (ڈیزائنز) کو حتمی منظوری دینے کے بجائے ان میں مزید بہتری اور چند اہم تبدیلیوں کی ہدایت کے ساتھ واپس بھجوا دیا ہے۔

نئے نوٹوں کا منصوبہ

یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی مالیاتی نظام کو دستاویزی بنانے، جعلی نوٹوں کے کاروبار کا خاتمہ کرنے اور ملکی زر کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تمام مالیت کے نئے نوٹ متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عید سے قبل نئے نوٹوں سے متعلق بڑی خبر

اس منصوبے کے تحت عوامی سطح پر ڈیزائن کے مقابلے بھی منعقد کروائے گئے تھے تاکہ نئے نوٹوں میں جدید حفاظتی خصوصیات کے ساتھ ساتھ ملکی ثقافت اور تاریخ کی بہترین عکاسی کی جا سکے۔

اسٹیٹ بینک ان تمام مراحل کو مکمل کر کے ابتدائی خاکے وفاقی حکومت کو ارسال کر چکا تھا، تاہم اب اس عمل کو بریک لگ گئی ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کے مطابق وفاقی حکومت نے آخری اور حتمی منظوری دینے سے قبل ان خاکوں میں کچھ تکنیکی اور ظاہری تبدیلیاں کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس وقت اسٹیٹ بینک کی ماہرین کی ٹیمیں ان خاکوں پر دوبارہ کام کر رہی ہیں، جس کے بعد یہ نئے ڈیزائن دوبارہ وفاقی کابینہ کو بھیجے جائیں گے، کیونکہ قانون کے مطابق نئے کرنسی نوٹوں کی حتمی منظوری دینے کا اختیار صرف وفاقی کابینہ کے پاس ہے۔

تاخیر کے ملکی معیشت پر اثرات

واضح رہے کہ نئے کرنسی نوٹوں کے اجرا میں تاخیر کا یہ فیصلہ معیشت کے لیے دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک طرف تو حکومت کا یہ قدم درست معلوم ہوتا ہے کہ نوٹوں کے ڈیزائن اور ان کے سیکیورٹی فیچرز (حفاظتی خصوصیات) میں کسی قسم کی جلدی نہ کی جائے، تاکہ مستقبل میں جعلی نوٹوں کی روک تھام کو 100 فیصد یقینی بنایا جا سکے۔

جدید دنیا کے اصولوں کے مطابق نوٹوں میں ایسی تبدیلیاں ناگزیر ہیں جنہیں عام آنکھ اور مشینیں آسانی سے پہچان سکیں۔ دوسری طرف تاجر برادری اور معاشی حلقوں میں اس تاخیر سے تھوڑی مایوسی پھیلی ہے۔

معیشت میں اس وقت غیر دستاویزی رقم اور جعلی نوٹوں کی گردش ایک بڑا چیلنج ہے۔ نئے نوٹوں کے آنے سے کالے دھن کو سفید کرنے والوں پر گرفت مضبوط ہونی تھی اور بینکنگ نظام میں نقدی کا بہاؤ بڑھنا تھا۔

اب اس عمل میں تاخیر کا مطلب یہ ہے کہ مارکیٹ کو مزید کچھ عرصے تک موجودہ نظام کے ساتھ ہی چلنا ہوگا، جو معاشی اصلاحات کی رفتار کو سست کر سکتا ہے۔

Related Articles