انسٹاگرام پر بڑا فیصلہ، اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن ختم، ڈی ایم سیکیورٹی ماڈل میں تبدیلی

انسٹاگرام پر بڑا فیصلہ، اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن ختم، ڈی ایم سیکیورٹی ماڈل میں تبدیلی

میٹا کی ملکیت انسٹاگرام نے اپنے میسجنگ سسٹم میں ایک اہم تبدیلی کرتے ہوئے عالمی سطح پر اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کے بعد صارفین کے ڈائریکٹ میسجز پہلے جیسی مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ نہیں رہیں گے۔

اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن وہ نظام تھا جس کے تحت صرف بھیجنے والا اور وصول کرنے والا ہی پیغامات پڑھ سکتا تھا، جبکہ کوئی تیسرا فریق حتیٰ کہ پلیٹ فارم بھی اس مواد تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ اسے دنیا بھر میں میسجنگ سیکیورٹی کا سب سے مضبوط معیار سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :ایف 35 پائلٹ ہیلمٹ، آسمان میں چلتا ہوا جدید ترین کمپیوٹر سسٹم

نئے فیصلے کے تحت انسٹاگرام اب روایتی انکرپشن ماڈل استعمال کرے گا، جس کے نتیجے میں ضرورت پڑنے پر پلیٹ فارم کو پیغامات، تصاویر، ویڈیوز اور وائس نوٹس تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

میٹا کی جانب سے اس تبدیلی کو ایک پالیسی ریویو کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، حالانکہ کمپنی نے اس سے قبل انسٹاگرام اور فیس بک میسنجر میں مکمل انکرپشن متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔ میسنجر میں یہ فیچر 2023 میں مکمل کیا گیا تھا جبکہ انسٹاگرام کے لیے بھی اسی سمت پیش رفت جاری تھی۔

یہ بھی پڑھیں:اوپن اے آئی کا نیا ’’ٹرسٹڈکانٹیکٹ‘‘ فیچر متعارف

اس فیصلے پر عالمی سطح پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ بچوں کی حفاظت سے متعلق تنظیموں نے اس اقدام کو مثبت قرار دیا ہے، ان کے مطابق اس سے آن لائن بدسلوکی اور غیر قانونی سرگرمیوں کی نگرانی میں آسانی ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب پرائیویسی کے حامی ماہرین اور ڈیجیٹل رائٹس ایکٹوسٹس نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے صارفین کی ذاتی گفتگو کی آزادی اور تحفظ کمزور ہو سکتا ہے۔انسٹاگرام اب بھی میسجنگ سروس جاری رکھے گا، تاہم پہلے جیسی مکمل اینڈ ٹو اینڈ پرائیویسی دستیاب نہیں ہوگی، جسے ڈیجیٹل پرائیویسی کے حوالے سے ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

editor

Related Articles