اوپن اے آئی نے ایک نیا حفاظتی فیچر متعارف کرایا ہے جس کا نام قابلِ اعتماد رابطہ’’ٹرسٹڈ کانٹیکٹ‘‘ رکھا گیا ہے۔ اس فیچر کا مقصد ایسے صارفین کی مدد کرنا ہے جو چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ گفتگو کے دوران خود کو نقصان پہنچانے جیسے حساس خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق یہ سسٹم صارف کو پہلے اس کے قریبی قابل اعتماد فرد سے رابطہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر صورتحال زیادہ سنگین محسوس ہو تو ایک خودکار الرٹ اس شخص تک بھی پہنچایا جاتا ہے جسے صارف نے پہلے سے ’’ٹرسٹڈ کانٹیکٹ‘‘کے طور پر منتخب کیا ہوتا ہے۔ یہ فرد عموماً کوئی دوست یا خاندان کا رکن ہوتا ہے۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ یہ قدم صارفین کی حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، خاص طور پر ان حالات میں جہاں گفتگو ذہنی دباؤ یا خود کو نقصان پہنچانے کے رجحان کی طرف جا سکتی ہو۔
کمپنی پہلے ہی ایک ایسا نظام استعمال کر رہی ہے جس میں خودکار ٹولز اور انسانی ٹیم دونوں شامل ہیں۔ جب کسی گفتگو میں خطرناک اشارے ملتے ہیں تو سسٹم اسے فلیگ کرتا ہے اور انسانی سیفٹی ٹیم اس کا جائزہ لیتی ہے۔
اوپن اے آئی کے مطابق ایسے کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جاتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ ایک گھنٹے کے اندر اندر جائزہ مکمل کر لیا جائے۔
اگر انسانی ٹیم یہ سمجھتی ہے کہ صورتحال واقعی خطرناک ہے تو پھر منتخب کردہ ’’ٹرسٹڈ کانٹیکٹ‘‘ کو اطلاع بھیج دی جاتی ہے۔ یہ اطلاع ای میل، ایس ایم ایس یا ایپ نوٹیفکیشن کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔ پیغام مختصر ہوتا ہے اور صرف اتنا بتایا جاتا ہے کہ صارف کو چیک ان کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے، جبکہ گفتگو کی تفصیل شیئر نہیں کی جاتی تاکہ پرائیویسی برقرار رہے۔
یہ نیا فیچر اس سے پہلے متعارف کرائے گئے اقدامات کے ساتھ شامل کیا گیا ہے، جن میں والدین کے لیے پیرنٹل کنٹرولز بھی شامل ہیں۔ ان کنٹرولز کے ذریعے والدین کو اپنے کم عمر بچوں کے اکاؤنٹس پر کچھ نگرانی حاصل ہوتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب سسٹم کسی سنگین خطرے کا امکان محسوس کرے۔
اس کے علاوہ چیٹ جی پی ٹی پہلے سے ہی ایسے حالات میں صارفین کو پروفیشنل مدد لینے کی تلقین کرتا ہے جب گفتگو حساس یا خطرناک موضوعات کی طرف جائے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ’’ٹرسٹڈ کانٹیکٹ‘‘ مکمل طور پر اختیاری فیچر ہے۔ صارف چاہے تو اسے آن کرے اور چاہے تو نہ کرے۔ اسی طرح ایک صارف کے پاس ایک سے زیادہ اکاؤنٹس رکھنے کی بھی سہولت موجود ہے، جس کی وجہ سے اس نظام کی حدود بھی برقرار رہتی ہیں۔
اوپن اے آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیچر ہمارے اس بڑے مشن کا حصہ ہے جس میں ہم ایسے اےآئی سسٹمز بنانا چاہتے ہیں جو مشکل وقت میں لوگوں کی بہتر مدد کر سکیں۔ ہم ماہرین، ڈاکٹرز اور پالیسی سازوں کے ساتھ مل کر اس نظام کو مزید بہتر بنانے پر کام جاری رکھیں گے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمپنی کو اپنے چیٹ بوٹ کے حوالے سے سنگین قانونی مقدمات اور تنقید کا سامنا بھی ہے، خاص طور پر ذہنی صحت اور حساس گفتگو سے متعلق معاملات پر۔