اگر آپ بھی ٹی بیگ والی چائے پیتے ہیں تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس میں موجود مائیکرو پلاسٹ کینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔
اس حوالے سے بارسلونا یونیورسٹی اسپین کی تحقیق نے دنیا کو خبردارکردیا۔
تحقیق میں تجارتی طور پر دستیاب پلاسٹک پولیمر سے بنے ٹی بیگزپر تجربے کیےگئے جس سے پتہ چلا کہ گرم پانی کے ایک قطرے میں پولی پروپیلین سے بنے ٹی بیگز نے مائیکرو پلاسٹ کے 1.2 ارب ذرات چھوڑے۔
سیلولوز سے بنے ٹی بیگز نے 13کروڑ 50 لاکھ جب کہ نائیلون 6 سے بنے ٹی بیگز نے پانی کے ایک قطرے میں 80 لاکھ سے زائد مائیکروپلاسٹک کے ذرات خار ج کیے۔
پلاسٹک کے یہ چھوٹے ذرات گرم پانی میں مل کر ایسے کیمیکل چھوڑتے ہیں جن کے باعث کینسر ہونےکا خدشہ ہے، سائنسدانوں نے یہ بھی کہا کہ آنتوں میں پلاسٹک کی موجودگی کا تعلق آنتوں کی سوزش جیسی بیماریوں سے ہے۔
اس سے قبل کینیڈا میں کی گئی ایک تحقیق میں بھی ایسے ہی نتائج سامنے آئے تھے۔
تحقیق کے مطابق کھانے کی پیکیجنگ میں پلاسٹک کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے، سائنسی تحقیق کو مائیکرو اور نینو پلاسٹک کی آلودگی سے پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پالیسیاں تیار کرنا ہوں گی تاکہ خوراک کی حفاظت اور ہمارے جسم کی صحت کو یقینی بنایا جا سکے۔