سینئر صحافی انس ملک نے اپنی ٹویٹ میں بی بی سی کی افغانستان میں افواج پاکستان کی کاروائیوں سے متعلق ایک متنازعہ رپورٹ کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں 300% اور خودکش بم دھماکوں میں 500% تک اضافہ ہوا ہے۔
ایکس پر انہوں نے مزید لکھا کہ طالبان نے دہشت گردوں کو پناہ دی، ان کی مدد کی اور ان کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی اجازت دی۔
انس ملک نے اپنی ٹویٹ میں یہ بھی لکھا کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد پاکستان نے 4 ہزار سے زیادہ شہریوں کی جانیں گنوائیں اور ان کے خاندان بھی جاننا چاہتے ہیں کہ ان حملوں کے پیچھے کون تھا اور طالبان نے ان دہشت گردوں کو کیوں پناہ دی اور ان کی سرگرمیوں میں مدد فراہم کی۔
بی بی سی کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک واقعے کو وسیع تر انسداد دہشت گردی کے اقدامات سے الگ کرنا بے معنی ہے اور یہ ایک غیر سنجیدہ رویہ ہے۔
انس ملک نے اس بات پر زور دیا کہ اس مسئلے کا حقیقی حل اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ افغانستان میں طالبان کا اقتدار کس طرح پاکستان میں دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا باعث بن رہا ہے۔